Skip to main content

** فیس بک پر کی جانے والی بد تہذیبیاں **





** فیس بک پر کی جانے والی بد تہذیبیاں **
فیس بک پر آپکی پوسٹ , آپکے پیغامات , آپکے کومنٹس ,اور آپکے لائکس دیکھ کر آپکے جذبات, آپکے کردار , تعلیم , تربیت, سوچ , عقل , دلچسپی اور آپکی ذہنی استعداد کا بخوبی اندازہ لگ جاتا ھے اس لئے احتیاط اور استعمال میں اخلاق کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن کا دامن ھاتھ سے نہ جانے دیں.
اس حوالے سے دانستگی یا غیر دانستگی میں سوشل نیٹ ورکس پر کی جانے والی چند نازیبا حرکات یا بد تہذیبیاں درج ذیل ھیں
فرض کیئے لیتے ھیں کہ آپ کے فیس بک فرینڈز کی تعداد ایک ھزار ھے اور آپکی کسی پوسٹ پر کیئے جانے والے کمنٹس اور لائکس کی تعداد 2 فیصد سے کم ھے تو پھر یا آپکو اپنی گرتی مقبولیت اور نا معقولیت کو ٹھیک کرنا چاھئے یا اپنی پوسٹ اور اپنے دوستوں کی ذہنی سوچ اور اپروچ کے درمیان دلچسپی کو دیکھنا ھوگا....
درج ذیل کچھ عادات و اطوارِ حسنہ میں سے خود کو پہچانئیے....
1) اگر کوئ اپنی فیس بک دیکھ رھا ھو تو اس میں گردن گھما گھما کر یا آنکھیں چرا کر تانک جھانک کرنا یا بلا اجازت مسلسل دیکھنا اک بد تہذیبی ھے جس سے دوسرا فرد ذہنی کوفت کا شکار ھو جاتا ھے...
2)کسی محفل , میٹنگ یا گھر والوں کے ساتھ بیٹھے ھوئے موبائل میں مشغول ھونا یا عوامی خدمت اور اپنی نوکری کے اوقات میں , یا اپنے کاروباری اوقات میں اھم امور کو چھوڑ کر , دوستوں کے ساتھ , تعزیت یا عیادت کے وقت, ڈرائیونگ یا کھانا کھاتے ھوئے یا مسجد میں موبائل کے استعمال سے اجتناب برتیں اسطرح آپ کسی نہ کسی دیکھنے والے کی نظر میں لازمی نا پسندیدگی اور بد تہذیبی کے مرتکب ھو رھے ھوتے ھیں.
3)فیس بک پر کسی جان پہچان کے بغیر کسی کو فرینڈ ریکؤسٹ کا بھیجنا... اگر آپ انکو یا بالخصوص مطلوبہ فرد آپکو نہی جانتا مگر آپ کسی باھمی دوستی , تعلق , عقیدت , کسی بھی اثر یا خصوصی وجہ سے ریکوسٹ کرنا چاھتے ھیں تو پہلے مطلوبہ فرد کی بذریعہ پیغام اجازت حاصل کریں.جس میں آپ کو اپنا مکمل تعارف , تعلق اور فرینڈ بنانے کی وجہ بتانی چاھئے....
4) کسی کی اس بد تہذیبی کے بعد کہ وہ بلا کسی وجہ , تعلق اور تعارف کے آپ کو دوست بنانا چاھتا ھے آپکی جانب سے جوابی بد تہذیبی یہ ھوتی ھے کہ آپ ریکوسٹ کو قبول کر لیتے ھیں.حالانکہ آپکو نظر انداز کرنا چاھئے یا موصوف کو احترام کے ساتھ تہذیبی احساس دلا کر خود معلومات کرنی چاھئے..
5) ایک فیس بک آئ ڈی ھوتے ھوے اپنی دوسری آی ڈی اپنے ھی نام اور تصویر کے ساتھ بنانا کہ اب دوستوں کو پریشانی ھوتی ھے کہ وہ کس پر رابطہ کریں بلکہ بعض لوگ جھالت کی حد تک چلے جاتے ھیں اور ہر کچھ عرصہ گزرنے کے ؤہ نئ آئ ڈی کے ساتھ آپکو مزید ایک ریکوسٹ بھیج رھے ھوتے ھیں.بے شک اسکی وجوھات ھوتی ھونگی جیسے آئ ڈی یا پاسورڈ کا بھول جانا وغیرہ مگر یہ بھی کسی کے تہذیب سے عاری ھونے والا فردھی تصور ھوتا ھے...
6) کسی جعلی نام کے ساتھ , کسی اھم شخصیت کے نام سے, یا غیر فطری یا انہونے نام جیسے کنگ , پرنس, کؤئین, اینجل, ,یا کوئ بھی خصوصی تعریف جو آپ اپنے منہ سے اپنے لئے پسند کرتے ھوں اور اس کا حقیقت سے تعلق نہ ھو فیس بک آئ ڈی بنا لینا آپکی ذہنی پسماندگی احساس کمتری , نفسیاتی عارضہ, کم علمی, بلکہ جہالت تک کے زمرے میں آتاھے, ان سب میں سب سے زیادہ اور بالخصوص کسی زنانہ نام کے ساتھ آئ ڈئ کا بنانا آپکی مجرمانہ ذہنیت تک کی عکاسی کرتا ھے.اور ایسے افراد کی خاندانی تربیت کی خرابی کی نمایاں جھلک آپ سمجھ سکتے ھیں.
7)اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ عموماُ لڑکیوں کے نام سے پاکستان , بھارت , افغانستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں اکثریتی آئ ڈئیز جعلی ھوتی ھیں اس لئے آپکا ندیدہ پن اور ٹھرکی ذہنیت بھی آپکے تہذیب یافتہ ھونے اور نہ ھونے کا پتہ دیتی ھے....
8)اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ کسی بھی پوسٹ پر کیا گیا آپکا لائک , یا کمنٹ آپکے فرینڈذ سے پوشیدہ نہی رھتا... اس طرح غیر اخلاقی نام اور تصاویر والی آئ ڈئیز, پیجز , گروپس, جن میں آپ شامل ھوں , ایڈ ھوں, فرینڈ یا ممبر ھوں.فیس بک وہ آئ ڈی آپکے فرینڈذ , اور دوسرے لوگوں کے سامنے آپکے اشتراک یا شمولیت کو خود بخود ظاھر کرتی ھے.... یا باھمی اور مشترکہ دوست کے آپشن سے آپکی وھاں موجودگی کو بخوبی کؤئ بھی دوست چیک کر سکتا ھے لھذا اس ٹھرکی پن کے چکر میں اپنے دوستوں کے سامنے ذلیل ھونے سے خود کو محفوظ رکھیں.
9) اپنی سیلفی یا اپنے عام فوٹو کا مسلسل لگاتے رھنا جس کی کوئ بھی وجہءتسمیہ نہ ھو بد تہزیبی تو بہرحال ھے مگر ایک بین الاقوامی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق نفسیاتی مرض ھے. اور روزآنہ لگائ جانے والی ذاتی تصاویر سے دیکھنے والے اگر باشعور اور تہذیب یافتہ افراد ھونگے تو وہ بہت تکلیف محسوس کرتے ھیں..
10) فیس بک پر آنے والے نئے نئے افراد آتے ساتھ اپنی بیکار اور بلا ضرورت تصاویر شائع کرنے کے بعد اپنی پسند کی وہ پوسٹ , فوٹوز اور ویڈیوز شئر کرنے لگ جاتے ھیں جو آپ کئ کئ بار اور کافی عرصہ سے دیکھ رھے ھوتے ھیں اور اکثر جعلی ھوتی ھیں.... جیسے بادل , سبزی , فروٹ , جانوروں وغیرہ پر کسی شکل یا نام کا ابھر آنا.....یہ سب بنیادی بدتہزیبیاں ھوتی ھیں جو زیادہ تر نووارد کرتے ھیں...
11) آپکی کسی بات , یا پوسٹ پر کوئ پیغام , سوال یا کومنٹس آئیں آور آپ کی طرف سے انکو لائک نہ کرنا بھی بد تہزیبی ھے اور انکا جواب نہ دینا بد تیذیبی کے ساتھ ساتھ بیوقوفانہ اور جاھلانہ عمل ھے.کیونکہ لوگ اپنے جواب کے منتظر ھوتے ھیں.. کم از کم شکریہ جواب میں لازمی لکھنا چاھئے...
12) غیر ضروری کمنٹس کرنا , ھر پوسٹ پر کمنٹس کرنا یا کسی بھی دوست کی کسی بھی پوسٹ پر کبھی بھی کمنٹس نہ کرنا یہ سب بھی بد تہذیبی کے زمرے میں آتا ھے...
13) اپنی پوسٹ یا فوٹوز کو ایسے دوست کو ٹیگ کرنا جسکا اس پوسٹ سے کوئ واسطہ یا ضرورت نہ ھو بڑی بد تہذیبیوں میں سے ایک ھے.....
14) اپنی فیس بک وال کو یکسانیت سے محفوظ رکھیں.فیس بک کو اپنی مخصوص سوچ , ضرورت اور شوق کے تابع نہ کریں
ھمیشہ ذاتی تصاویر , تفریحی پوسٹ , مذھبی , شاعری , کھیل کود , سیاسی یا ذاتی پوسٹ پر مرتکز نہ ھوں البتہ ان سب کو ساتھ چلائیں اور ایک توازن برقرار رکھیں...
کسی مخصوص طرح کی پوسٹ ھی آپ لگاتے ھیں تو اس کے لئے اپنا گروپ یا پیج بنالیں..اگر آپ اپنی فیس بک وال پر صرف ذاتی تشہیر, مخصوص شعبہ جیسے مذھب , یا سیاست ھی کرنا جانتے ھیں تو پھر آپ اس معلوماتی , اور سماجی رابطے کی سائیٹ فیس بک کے ان پڑھ ممبر کہلائیں گے..
کسی کی تحریر کاپی کریں تو آخر میں لکھنے والے کا نام مٹا کر اپنا نام لکھنا یا رائٹر کا شکریہ ادا نہ کرنا فقط بد تہذیبی ھی نہی بلکہ علمی چوری کہلاتی ھے اور اگر رائٹر کا نام معلوم نہ ھو تو منقول یا کاپی پیسٹ ضرور لکھنا چاھئے...
تحریر........
#سردار رب نواز

Comments

Popular posts from this blog

ھیر رانجھا

ھیر رانجھا ھیر رانجھا کا مزار.. پنجاب میں ضلع جھنگ میں ایک پرانے خراب حال قبرستان میں تقریباً بیس فٹ بلند اور سولہ فٹ چوڑائی اور لمبائی والی ایک چوکور عمارت ھے. چند سیڑھیاں چڑھ کر اندر پہنچیں تو مزار کے اندر ایک قبر، اور کچھ چراغ دکھائی دیں گے۔قبر کے محفوظ حصے میں اور جالیوں کے ساتھ زمانے کے نت نئے عاشقوں کی نشانیاں نظر آنے لگ جاتی ھیں جو ایصال ء ثواب کے بجائے اپنے اپنے عشق کا رونا ھی روتے ھیں ..... اور خود کواہلء مزار کا خلیفہ سمجھنے لگتے ھیں مزار کے بارے میں جو بات انتہائی عجیب دکھائی دیتی ہے وہ ہے اس کی چھت۔ دراصل اس مزار کی چھت ہے بھی اور نہیں بھی۔ قبر کے عین اوپر تقریباً بارہ فٹ قطر کا ایک سوراخ نظر آتا ہے جس کے بارے میں سن رکھا تھا کہ بارش کے قطرے اس سوراخ کے ذریعے عمارت کے اندر نہیں آ پاتے، لیکن وہاں موجود ایک بزرگ نے فوری طور پر اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے بتایا کہ سوراخ سے بارش یقیناً اندر آتی ہے اور جب زیادہ آتی ہے تو اس سے بچنے کے لیے ملحقہ مسجد میں پناہ بھی لینا پڑتی ہے۔ اس کی ایک وجہ جو تاریخ سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ جس زمانے میں یہ مزار بنا تھا تب ایسی عما...

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ زندگی کا خلاصہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ زندگی کا خلاصہ سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت پیر کے روز صبح صادق کے وقت ربیع الاول ،عام الفیل ۔بمطابق اپریل ۵۷۱ء میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے چند مہینے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ِمحترم ”عبد اللہ “کی وفات ہو گئی، آپ کے دادا جان ”عبد المطلب“ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی ”محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب“ ہے ،اور آپ کی والدہ محترمہ ”آمنہ کی طرف سے آپ کا نام ”احمد“ تجویز ہوا۔ ابولہب کی آزاد کر دہ باندی ”ثویبہ رضی اللہ عنہا“کے چند دن دودھ پلانے کے بعدشرفاء ِقریش کی عادت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا “کی رضاعت میں دے کر مضافاتِ مکہ میں بھیج دیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ دن کے تھے۔۔۔۔۔۔ ولادت کے چوتھے سال شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا، موٴرخین لکھتے ہیں کہ شق صدر کا واقعہ چار بار پیش آیا، ایک: زمانہ طفولیت میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس، دوسری بار دس سال کی عمر میں پیش آیا۔ (فتح الباری: ۱۳/۴۸۱)تیسری بار: واقعہٴ بعثت...

*ﻋِﺸــــــــﻖ

*ﻋِﺸــــــــﻖ* *ﻋِﺸﻖ ﺁﻓﺖ ، ﻋِﺸﻖ ﺁﺗﺶ ، ﻋِﺸﻖ ﻣﻄﻠﻮﺏِ ﺧﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﻣﺠﻨﻮﮞ ، ﻋِﺸﻖ ﻟﯿﻠٰﯽ، ﻋِﺸﻖ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﻭ ﺻﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺑﺎﻃِﻦ ، ﻋِﺸﻖ ﻇﺎﮨِﺮ ، ﻋِﺸﻖ ﺗﻤﺜﯿﻞِ ﺍﻟٰﮧ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺳﺎﮐِﻦ ، ﻋِﺸﻖ ﺟﺎﺭﯼ ، ﻋِﺸﻖ ﮨﻤﻨﺎﻡ ﺧُﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺑﺎﻗﯽ ، ﻋِﺸﻖ ﺳﺎﻗﯽ ، ﻋِﺸﻖ ﻣﻌﻨٰﺊ ﻋﻄﺎ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﻓﺮﮨﺎﺩ ، ﻋِﺸﻖ ﺷِﯿﺮﯾﮟ ، ﻋِﺸﻖ ﺑﺎﺭﺍﻥِ ﺷِﻔﺎﺀ. *ﻋِﺸﻖ ﻃﺎﻗﺖ ، ﻋِﺸﻖ ﻃَﻠﻌَﺖ ، ﻋِﺸﻖ ﺗﺎﺛﯿﺮِ ﺣَﯿﺎ.!!! *ﻋِﺸﻖ ﺟﻠﻨﺎ ، ﻋِﺸﻖ ﻣَﺮﻧﺎ ، ﻋِﺸﻖ ﺩﺭﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺍ.!!! *ﻋِﺸﻖ ﻣﺎﻟِﮏ ، ﻋِﺸﻖ ﺻﺎﺣِﺐ ، ﻋِﺸﻖ ﺍﻧﻮﺍﺭِ ﺧُﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺍﻭّﻝ ، ﻋِﺸﻖ ﺁﺧِﺮ ، ﻋِﺸﻖ ﺳﺎﺣِﻞ ﺑﺎﺧُﺪﺍ.!!!*