Skip to main content

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج کے انسانوں نے دنیا میں تباہی و بربادی اور فتنہ و فساد کے جو طوفان بپا کر دیئے ہیں ، اس نے شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور وہ اب اس کے بارے میں کیا خیالات رکھتا ہے، شاعر کے تخیل کی آنکھ سے دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یارب
اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لیے میں نے بھی سر نہ جھکایا یارب
لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عقلمندی اسی میں ہے کہ میں توبہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اس کی
قلب و جاں پاک تھے، شفاف تھی طینت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی
اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں
پکتا رہتا ہے ہمیشہ ہی لاوا اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک اک سانس ہے اب صورتِ شعلہ اس میں
آگ موجود تھی کیا مجھ سے بھی زیادہ اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا آتشکدہءِ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اب تو یہ خون کے رشتوں سے اکڑ جاتا ہے
باپ سے، بھائی سے، بیٹے سے بھی لڑ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کبھی طیش میں ہتھے سے اُکھڑ جاتا ہے
خود مرے شر کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو لازم ہے کہ میں خود کو ہی سیدھا کرلوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
کچھ جھجکتا ہے، نہ ڈرتا ہے، نہ شرماتا ہے
میں برا سوچتا رہتا ہوں، یہ کر جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ابھی اس کی میں مریدی کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

Comments

Popular posts from this blog

ھیر رانجھا

ھیر رانجھا ھیر رانجھا کا مزار.. پنجاب میں ضلع جھنگ میں ایک پرانے خراب حال قبرستان میں تقریباً بیس فٹ بلند اور سولہ فٹ چوڑائی اور لمبائی والی ایک چوکور عمارت ھے. چند سیڑھیاں چڑھ کر اندر پہنچیں تو مزار کے اندر ایک قبر، اور کچھ چراغ دکھائی دیں گے۔قبر کے محفوظ حصے میں اور جالیوں کے ساتھ زمانے کے نت نئے عاشقوں کی نشانیاں نظر آنے لگ جاتی ھیں جو ایصال ء ثواب کے بجائے اپنے اپنے عشق کا رونا ھی روتے ھیں ..... اور خود کواہلء مزار کا خلیفہ سمجھنے لگتے ھیں مزار کے بارے میں جو بات انتہائی عجیب دکھائی دیتی ہے وہ ہے اس کی چھت۔ دراصل اس مزار کی چھت ہے بھی اور نہیں بھی۔ قبر کے عین اوپر تقریباً بارہ فٹ قطر کا ایک سوراخ نظر آتا ہے جس کے بارے میں سن رکھا تھا کہ بارش کے قطرے اس سوراخ کے ذریعے عمارت کے اندر نہیں آ پاتے، لیکن وہاں موجود ایک بزرگ نے فوری طور پر اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے بتایا کہ سوراخ سے بارش یقیناً اندر آتی ہے اور جب زیادہ آتی ہے تو اس سے بچنے کے لیے ملحقہ مسجد میں پناہ بھی لینا پڑتی ہے۔ اس کی ایک وجہ جو تاریخ سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ جس زمانے میں یہ مزار بنا تھا تب ایسی عما...

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ زندگی کا خلاصہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ زندگی کا خلاصہ سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت پیر کے روز صبح صادق کے وقت ربیع الاول ،عام الفیل ۔بمطابق اپریل ۵۷۱ء میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے چند مہینے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ِمحترم ”عبد اللہ “کی وفات ہو گئی، آپ کے دادا جان ”عبد المطلب“ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی ”محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب“ ہے ،اور آپ کی والدہ محترمہ ”آمنہ کی طرف سے آپ کا نام ”احمد“ تجویز ہوا۔ ابولہب کی آزاد کر دہ باندی ”ثویبہ رضی اللہ عنہا“کے چند دن دودھ پلانے کے بعدشرفاء ِقریش کی عادت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا “کی رضاعت میں دے کر مضافاتِ مکہ میں بھیج دیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ دن کے تھے۔۔۔۔۔۔ ولادت کے چوتھے سال شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا، موٴرخین لکھتے ہیں کہ شق صدر کا واقعہ چار بار پیش آیا، ایک: زمانہ طفولیت میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس، دوسری بار دس سال کی عمر میں پیش آیا۔ (فتح الباری: ۱۳/۴۸۱)تیسری بار: واقعہٴ بعثت...

*ﻋِﺸــــــــﻖ

*ﻋِﺸــــــــﻖ* *ﻋِﺸﻖ ﺁﻓﺖ ، ﻋِﺸﻖ ﺁﺗﺶ ، ﻋِﺸﻖ ﻣﻄﻠﻮﺏِ ﺧﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﻣﺠﻨﻮﮞ ، ﻋِﺸﻖ ﻟﯿﻠٰﯽ، ﻋِﺸﻖ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﻭ ﺻﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺑﺎﻃِﻦ ، ﻋِﺸﻖ ﻇﺎﮨِﺮ ، ﻋِﺸﻖ ﺗﻤﺜﯿﻞِ ﺍﻟٰﮧ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺳﺎﮐِﻦ ، ﻋِﺸﻖ ﺟﺎﺭﯼ ، ﻋِﺸﻖ ﮨﻤﻨﺎﻡ ﺧُﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺑﺎﻗﯽ ، ﻋِﺸﻖ ﺳﺎﻗﯽ ، ﻋِﺸﻖ ﻣﻌﻨٰﺊ ﻋﻄﺎ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﻓﺮﮨﺎﺩ ، ﻋِﺸﻖ ﺷِﯿﺮﯾﮟ ، ﻋِﺸﻖ ﺑﺎﺭﺍﻥِ ﺷِﻔﺎﺀ. *ﻋِﺸﻖ ﻃﺎﻗﺖ ، ﻋِﺸﻖ ﻃَﻠﻌَﺖ ، ﻋِﺸﻖ ﺗﺎﺛﯿﺮِ ﺣَﯿﺎ.!!! *ﻋِﺸﻖ ﺟﻠﻨﺎ ، ﻋِﺸﻖ ﻣَﺮﻧﺎ ، ﻋِﺸﻖ ﺩﺭﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺍ.!!! *ﻋِﺸﻖ ﻣﺎﻟِﮏ ، ﻋِﺸﻖ ﺻﺎﺣِﺐ ، ﻋِﺸﻖ ﺍﻧﻮﺍﺭِ ﺧُﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺍﻭّﻝ ، ﻋِﺸﻖ ﺁﺧِﺮ ، ﻋِﺸﻖ ﺳﺎﺣِﻞ ﺑﺎﺧُﺪﺍ.!!!*