Skip to main content

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات


تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات (اقبال)
....................................
خدا کے حضور میں
اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیات 
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذات
میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات
محرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سے
بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات
آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات
ہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے
تو خالق اعصار و نگارندۂ آنات
اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات
جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچے
کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات
گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات
وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود
وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماوات
مشرق کے خداوند سفیدان فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فلزات
یورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات
رعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میں
گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات
یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات
وہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات
مے خانہ نے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خرابات
چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شام
یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تری منتظر روز مکافات
منقول ....کتاب بالِ جبرئیل نظم لینن (خُدا کے حضور میں)
علامہ مُحمّد اِقبال رحمۃ اللہ علیہ

Comments

Popular posts from this blog

ھیر رانجھا

ھیر رانجھا ھیر رانجھا کا مزار.. پنجاب میں ضلع جھنگ میں ایک پرانے خراب حال قبرستان میں تقریباً بیس فٹ بلند اور سولہ فٹ چوڑائی اور لمبائی والی ایک چوکور عمارت ھے. چند سیڑھیاں چڑھ کر اندر پہنچیں تو مزار کے اندر ایک قبر، اور کچھ چراغ دکھائی دیں گے۔قبر کے محفوظ حصے میں اور جالیوں کے ساتھ زمانے کے نت نئے عاشقوں کی نشانیاں نظر آنے لگ جاتی ھیں جو ایصال ء ثواب کے بجائے اپنے اپنے عشق کا رونا ھی روتے ھیں ..... اور خود کواہلء مزار کا خلیفہ سمجھنے لگتے ھیں مزار کے بارے میں جو بات انتہائی عجیب دکھائی دیتی ہے وہ ہے اس کی چھت۔ دراصل اس مزار کی چھت ہے بھی اور نہیں بھی۔ قبر کے عین اوپر تقریباً بارہ فٹ قطر کا ایک سوراخ نظر آتا ہے جس کے بارے میں سن رکھا تھا کہ بارش کے قطرے اس سوراخ کے ذریعے عمارت کے اندر نہیں آ پاتے، لیکن وہاں موجود ایک بزرگ نے فوری طور پر اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے بتایا کہ سوراخ سے بارش یقیناً اندر آتی ہے اور جب زیادہ آتی ہے تو اس سے بچنے کے لیے ملحقہ مسجد میں پناہ بھی لینا پڑتی ہے۔ اس کی ایک وجہ جو تاریخ سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ جس زمانے میں یہ مزار بنا تھا تب ایسی عما...

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ زندگی کا خلاصہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ زندگی کا خلاصہ سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت پیر کے روز صبح صادق کے وقت ربیع الاول ،عام الفیل ۔بمطابق اپریل ۵۷۱ء میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے چند مہینے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ِمحترم ”عبد اللہ “کی وفات ہو گئی، آپ کے دادا جان ”عبد المطلب“ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی ”محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب“ ہے ،اور آپ کی والدہ محترمہ ”آمنہ کی طرف سے آپ کا نام ”احمد“ تجویز ہوا۔ ابولہب کی آزاد کر دہ باندی ”ثویبہ رضی اللہ عنہا“کے چند دن دودھ پلانے کے بعدشرفاء ِقریش کی عادت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا “کی رضاعت میں دے کر مضافاتِ مکہ میں بھیج دیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ دن کے تھے۔۔۔۔۔۔ ولادت کے چوتھے سال شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا، موٴرخین لکھتے ہیں کہ شق صدر کا واقعہ چار بار پیش آیا، ایک: زمانہ طفولیت میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس، دوسری بار دس سال کی عمر میں پیش آیا۔ (فتح الباری: ۱۳/۴۸۱)تیسری بار: واقعہٴ بعثت...

*ﻋِﺸــــــــﻖ

*ﻋِﺸــــــــﻖ* *ﻋِﺸﻖ ﺁﻓﺖ ، ﻋِﺸﻖ ﺁﺗﺶ ، ﻋِﺸﻖ ﻣﻄﻠﻮﺏِ ﺧﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﻣﺠﻨﻮﮞ ، ﻋِﺸﻖ ﻟﯿﻠٰﯽ، ﻋِﺸﻖ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﻭ ﺻﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺑﺎﻃِﻦ ، ﻋِﺸﻖ ﻇﺎﮨِﺮ ، ﻋِﺸﻖ ﺗﻤﺜﯿﻞِ ﺍﻟٰﮧ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺳﺎﮐِﻦ ، ﻋِﺸﻖ ﺟﺎﺭﯼ ، ﻋِﺸﻖ ﮨﻤﻨﺎﻡ ﺧُﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺑﺎﻗﯽ ، ﻋِﺸﻖ ﺳﺎﻗﯽ ، ﻋِﺸﻖ ﻣﻌﻨٰﺊ ﻋﻄﺎ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﻓﺮﮨﺎﺩ ، ﻋِﺸﻖ ﺷِﯿﺮﯾﮟ ، ﻋِﺸﻖ ﺑﺎﺭﺍﻥِ ﺷِﻔﺎﺀ. *ﻋِﺸﻖ ﻃﺎﻗﺖ ، ﻋِﺸﻖ ﻃَﻠﻌَﺖ ، ﻋِﺸﻖ ﺗﺎﺛﯿﺮِ ﺣَﯿﺎ.!!! *ﻋِﺸﻖ ﺟﻠﻨﺎ ، ﻋِﺸﻖ ﻣَﺮﻧﺎ ، ﻋِﺸﻖ ﺩﺭﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺍ.!!! *ﻋِﺸﻖ ﻣﺎﻟِﮏ ، ﻋِﺸﻖ ﺻﺎﺣِﺐ ، ﻋِﺸﻖ ﺍﻧﻮﺍﺭِ ﺧُﺪﺍ.!!!* *ﻋِﺸﻖ ﺍﻭّﻝ ، ﻋِﺸﻖ ﺁﺧِﺮ ، ﻋِﺸﻖ ﺳﺎﺣِﻞ ﺑﺎﺧُﺪﺍ.!!!*