***ھمارے امامِ اَعظم حضرت ابو حنیفہ***
ایک رات امام اعظم ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ نے خواب دیکھا کہ آپ حضور پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزار مبارک کو کھود رہے
ہیں. آپ نے بیدار ہونے کے بعد اسے اپنی کمزوری اعمال ہی سمجھا لیکن جب آپ نے تعبیر کے استاد کے سامنے خواب رکھا تو انہوں نے تعبیر بتای کہ
ہیں. آپ نے بیدار ہونے کے بعد اسے اپنی کمزوری اعمال ہی سمجھا لیکن جب آپ نے تعبیر کے استاد کے سامنے خواب رکھا تو انہوں نے تعبیر بتای کہ
"آپ مردہ علم کو ذندہ کریں گے."
امام ابو حنیفہ نے تقیبا 4000 علماء سے علم فقہ و حدیث حاصل کیا. آپ کو اہل بیت کے 9 اقابر علماء سے علم حاصل کرنے کی سعادت حاصل ہے. آپ کو جہاں بھی کوی عالم ملتا, چاہے چھوٹا ہو یا بڑا آپ اس سے علم حاصل کرتے اور اس کی محفل موئدب ہو کر شاگردوں کی طرح بیٹھتے.
ایک دفعہ آپ کسی مسلے کو سوچتے ہوے گھر کے سامنے چہل قدمی کر رہے تھے کہ ایک خاکروب جو آپ کا عقیدت مند تھا آپ کو الجھے ہوے دیکھا تو پوچھا حضرت کیوں اس قدر پریشان ہیں, حضرت نے ٹالنے کی کوشش کی لیکن اس کے اسرار پر بتایا کہ کتے کے متعلق اک علمی تحقیق کے مسلے پر سوچ رہا ہوں. خاکروب کو اس مسلے کا علم تھا اس نے آپ کو جواب دے کر مطمئن کر دیا. اس واقعے کے بعد وہ خاکروب جب بھی آپ کے سامنے سے گزرتا آپ احترام میں کھڑے ہو جاتے. لوگوں نے وجہ پوچھی تو عرض کی کہ ایک مسلے میں یہ میرا استاد ہے.
آپ کی یاداشت اور زہانت اتنی کمال کی تھی کہ آپ جو سنتے یاد ہو جاتا. آپ جلد ہی ہر استاد کی نظر میں خاص مقام حاصل کر لیتے. یہی وجہ تھی کہ دیگر علماء بھی آپ کی قابلیت کی تعریف کیے بنا نہ رہتے.
مالک بن دینار رح بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ امام مالک رح کے پاس حاضر تھا کہ ایک درویش بزرگ آے, امام مالک نے انہیں اپنے ساتھ جگہ دی اور عزت سے پیش آے. جب وہ چلے گئے تو امام مالک نے مجھ سے کہا جانتے ہو یہ کون تھے, یہ ابو حنیفہ عراقی تھے, اگر یہ اس ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو کوی انہیں روک نہیں سکتا.
زہانت تدبر اور عقل و فراست میں کوی آپ کا ثانی نہیں تھا. آپ ایسے مسائل آرام سے حل کر لیتے جو دوسرے علماء نہ کر پاتے.
ایک دفعہ ایک شخص اپنی بیوی سے ناراض ہو گیا اور قسم کھا کر کہا کہ جب تک تو مجھ سے نہ بولے گی میں بھی تجھ سے بات نہ کروں گا. بیوی بھی سخت مزاج تھی اس نے بھی انہی الفاظ کے ساتھ قسم کھا لی. جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو دونوں کو غلطی کا احساس ہوا. وہ شخص امام سفیان ثوری رح کے پاس آیا اور مسلے کا حل دریافت کیا. سفیان ثوری نے فرمایا ہر حال میں قسم کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا.
پھر وہ شخص امام ابو حنیفہ کے پاس آیا اور مسلے کا حل پوچھا.
آپ نے فرمایا جاو شوق سے اپنی بیوی سے باتیں کرو کسی پر کوی کفارہ نہیں.
جب سفیان ثوری رح کو پتا چلا تو آپ نے ابو حنیفہ رح سے پوچھا کہ آپ نے کس طرح یہ فتوی دیا کہ کوی کفارہ نہیں.
آپ نے عرض کی کہ جب شوہر کی قسم کے بعد بیوی نے بھی وہی الفاظ دہرا دیے تو بیوی کی طرف سے گفتگو کا آغاز ہو گیا تو پھر قسم پوری ہو گئی.
آپ نے فرمایا جاو شوق سے اپنی بیوی سے باتیں کرو کسی پر کوی کفارہ نہیں.
جب سفیان ثوری رح کو پتا چلا تو آپ نے ابو حنیفہ رح سے پوچھا کہ آپ نے کس طرح یہ فتوی دیا کہ کوی کفارہ نہیں.
آپ نے عرض کی کہ جب شوہر کی قسم کے بعد بیوی نے بھی وہی الفاظ دہرا دیے تو بیوی کی طرف سے گفتگو کا آغاز ہو گیا تو پھر قسم پوری ہو گئی.
حضرت سفیان ثوری آپ کا یہ جواب سن کر حیران ہو گئے اور آپ فرمایا
"جس اہم نقطے تک آپ کا زہن فوری پہنچ جاتا ہے وہاں ہم لوگوں کا خیال بھی نہیں ہہنچتا"
ایسا ہی ایک اور واقعہ مشہور ہے جس میں امام کی زہانت نے اہم کردار ادا کیا. ایک شخص اپنے سسر کو پسند نہ کرتا تھا, ایک دفعہ وہ کہیں سفر پر گیا اور جاتے ہوے بیوی کو کہہ گیا کہ اگر تم اپنے باپ کے گھر گئی تو تمہیں تین طلاقیں ہو جائیں گی. بیوی نے صبر کیا اور اپنے باپ کے گھر نہ گئی. لیکن کچھ عرصے میں اس کا باپ فوت ہو گیا, اس سے برداشت نہ ہوت اور وہ باپ کے گھر چلی گئی. جب شوہر واپس ہوا تو پریشان ہوا, وہ اپنی بیوی سے محبت بھی بہت کرتا تھا اس لیے مسلہ کے حل کے لیے علماء سے رجوع کیا. جس کے پاس بھی گیا سب نے کہا کہ طلاق ہو گئی ہے اب کوی صورت نہیں بچی.
لیکن جب امام ابو حنیفہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا کہ طلاق نہیں ہوی, وہ اب بھی تمہاری بیوی ہے.
علماء میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ ابو حنیفہ نے سب علماء کے خلاف فتوی دیا ہے. بات بہت آگے نکل گئی, بلآخر امام ابو حنیفہ نے سب علماء کو وضاحت دی کہ جب ایک شخص فوت ہو جاۓ تو دنیا سے اس کا تعلق ختم ہو جاتا ہے, اس کی ملکیت وراثت میں تقسیم ہو جاتی ہے, جب اس عورت کا واد فوت ہو گیا تو وہ گھر اس کا نہ رہا بلکہ وراثت کے حقداروں کا بن گیا جس میں وہ عورت خود بھی شامل ہے. لہازا وہ عورت اپنے ہی گھر گئی تو پھر طلاق کیسے ہوی.
سب علماء آپ کی زہانت کے قائل ہو گئے. اور بعض نے یک زبان ہو کر کہا کہ
"اللہ کی قسم اس میدان میں کوی ابو حنیفہ کی ہمسری نہیں کر سکتا".
حضرت مقاتل بن سلیمان رحمت اللہ علیہ بغداد کے مشہور مفسر تھے. آپ عشاء کی نماز کے سونے کے لیے لیٹے تو آدھی رات کو ایک خوفناک خواب دیکھا. آپ نے دیکھا کہ میں تنہا کھڑا ہوں کہ اچانک بغداد کی بلند ترین عمارت پر ایک نور کا ہیولہ اترا آسمان سے, ہر طرف روشنی پھیل گئی. پھر اچانک روشنی ختم ہو گئی اور وحشت اور خوف مجھ پر حاوی ہو گیا. وہ ایک دراز قد انسان نما تھا. جس کے چہرے کو دیکھنے سے خوف طاری ہو جاتا تھا. اس دراز قد شخص نے اپنا ایک ہاتھ ہوا میں بلند کیا اور کہا " اہل عراق ہلاک ہو گئے" کچھ وقفے سے تین دفعہ اس نے یہ الفاظ دہراے "اہل عراق ہلاک ہو گئے". مجھے ایسے لگا جیسے صور پھوک دیا گیا ہو, میری روح کے ساتھ بغداد کے درو دیوار بھی کانپنے لگے. پھر وہ پیکر واپس آسمان کی طرف پرواز کر گیا".
مقاتل بن سلیمان نے بقیہ رات جاگتے اور خوف میں گزاری. فجر کے بعد حاضرین کے سامنے خواب بیان کیا تو سب اس نتیجے پر پہنچے کہ ضرور کوی آفت آنے والی ہے اہل عراق پر, ہمیں توبہ کرنی چاہیے.
سورج نکل آیا تھا لیکن اہل بغداد کے کیے آج کا دن اندھیری رات سے بھی زیادہ سیاہ تھا. اچانک بغداد میں کہرام مچ گیا, لوگ چیختے ہوے گھروں سے باہر نکل آے اور شاہراون پر جمع ہونے لگے. شور سن کر مقاتل بن سلیمان باہر نکلے تو معلوم ہوا کہ رات امام ابو حنیفہ انتقال کر گئے ہیں. یہ سن کر آپ پر سکتہ طاری ہو گیا اور ہوش مین آنے کے بعد آپ نے بے اختیار کہا
" واقعی آج اہل عراق ہلاک ہو گئے".
شیخ بو علی بن عثمان رح کا بیان ہے کہ "مین ایک دفعہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس سو رہا تھا کہ خواب میں حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاۓ, آپ نے کسی شخص کو آغوش میں لیے ہوے تھے, میں عرض کی یا رسول اللہ صل اللہ علیی وآلہ وسلم یہ کون ہیں? آپ نے فرمایا یہ مسلمانوں کے امام ابو حنیفہ ہیں.
حضرت یحی معاز رازی رح نے خواب میں حضور صل اللہ علیی وآلہ وسلم سے عرض کی کہ حضور آپ کو کہاں تلاش کروں? سرکار صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
" ابو حنیفہ کے علم کے قریب".
یہ تھے ہمارے امام اعظم نعمان بن ثابت المعروف امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ.
منقول
حوالہ جات : سفیران حرم,
تحریر خان آصف
منقول
حوالہ جات : سفیران حرم,
تحریر خان آصف

Comments
Post a Comment