Skip to main content

سندھ ........باب الاسلام




سندھ ........باب الاسلام

بر صغئیر کا قدیم ترین علاقہ اور تھذیب سندھ پاکستان کا ایک اھم اور بڑا صوبہ ہے....
سندھ کو باب الاسلام بھی کہا جاتا ھے....یعنی بعض روایات میں ھے کہ دین اسلام بر صغیر کے اندر سب سے پہلے سندھ میں آیا تھا.....
ابتدائ ادوار میں سندھ موجودہ ھندوستان کے بھی اک بڑے رقبے پر محیط تھا. ممبئ , مھاراشٹر اور راجھستان سندھ میں شمار ھوتے تھے...اور بلوچستان کا علاقہ بھی سندھ کا حصہ تھا جبکہ ملتان , تک کی تمام سرائیکی بیلٹ بھی اصل میں سندھ ھی ھوا کرتا تھا.....
موجودہ سندھ اپنی قدیم تاریخی شہرت کے ساتھ ساتھ اب جدید معاشی , اور صنعتی ترقی کا حامل بھی ھے.
سندھ 54000 سے زائد مربع میل احاطے پر پھیلا ھوا ھے...
سندھ کے انتیس بڑے اضلاع ھیں.
1100 سے زئد یونین کونسلز اور اسمبلی کی 168 نشستیں ھیں.......
سندھ دھرتی اپنے اندر جو پیار , کشش , افادیت اور چاھت رکھتی ھے وہ یہاں پیدا ھونے والے کو ھی نہی بلکہ یہاں دوسری جگہہ سے آکر آباد ھونے والوں کو بھی اپنے طلسماتی حصار میں یؤں مقید کرتی ھے کہ وہ سندھ کا ھی ھو کر رہ جاتا ھے...اور دنیا کے جس ملک میں بھی جائے سندھ دھرتی کی اپنائیت اور سحر سے نہی نکل سکتا....
یہ دھرتی دریائے سندھ جیسی دولت اور ساحل سمندر کی طاقت , میدانوں کی خوبصورتی , سرسبز کھیتوں کی ھریالی وسیع وعریض صحراؤں جیسے خدا کی انمول نعمتوں سے اسطرح مزین ھے جیسے قیمتی ھیرے موتیوں کی اک ایسی مالا جو فقط بادشاہوں کے پاس ملتی ھے....
سندھ اہنے محل و وقوع اور خداداد زمینی اوصاف کی بناء پر مرکزی اھمیت وافادیت رکھتا ھے جس پر سندھ باسیوں کا فخر قابلء فھم ھےاور یہ خطہ بلا شبہ اس فخر کا حقدار بھی ھے ....
دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم دریا ہے۔دریائے سندھ کی شروعات تبت سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد دریا لدّاخ اور گلگت بلتستان کے سنگلاخ پہاڑؤں کا سینہ چیرتا ھوا صوبہ خیبرپختونخوا میں داخل ہوتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوامیں اسے اباسین یعنی دریاؤں کا باپ اور شیر دریا بھی کہا جاتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخواہ میں دریا پہاڑوں سے میدانوں میں اک اپنی ھی شان ء بے نیازی سے اتر آتا ہے اور اس کے بعد صوبہ پنجاب اور سندھ سے مخلوق خدا اور زمینوں کی ضروریات کو پورا کرتا گزرتا ہواٹھٹہ کے قریب بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ مختلف مقامات پر اس کے مشرقی معاون دریا
( جہلم، چناب، راوی، ستلج)
اس میں شامل ہوتے رہتے ہیں اس دریا کی لمبائی کم و بیش 3200 کلومیٹر ہے....
دنیا کی تاریخ کی دو بھت قدیم ترین تہذیبوں کے آثار بھی اسی خطہ میں ملے ھیں جنکو ھڑپہ اور موہنجو دڑو کے نام دئے گئے...یہ تہذیبیں اس وقت دنیا کو قبل مسیح کی دور کی اقوام کا بتاتی ھیں..
اسی طرح قدیم ترین تاریخی اھمیت کا حامل قبرستان بھی مکلی کے نام سے ضلع ٹھٹھہ میں واقع ھے.
میں سمجھتا ھوں کہ ان تاریخی آثار کو ان کے شایان ء شان حکومتی توجہ اور تحفظ کبھی نھی مل سکا جو سندھ کی خوبصورت اور انفرادی قدیم تاریخی حیثیت کے ساتھ اک ظلم ھے.......
سندھ کو اللہ نے نہ صرف سمندر اور ساحل دئے بلکہ بندرگاھوں جیسی انمول نعمت بھی عطا کی ھے.
سندھ کی سرزمین معدنی ذخائر کی دولت سے بھی مالا مال ھے
قدرتی تیل , کوئلہ , گیس , نمک , چونے کا پتھر جیسے خزانے سندھ کی ملکیت میں آتے ھیں.
سندھ پاکستان کا سب سے بڑا معاشی حب ھے اور پورے پاکستان کے ھر مقام سے آکر لوگ یہاں آباد ھوئے ھیں.....
سندھی بولنے والے کئی افراد بھارت کے کئی حصوں میں بھی آباد ہیں جو 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھارت گئے اور وہاں آباد ہو گئے۔ ۔ پاکستان میں سندھی بولنے والوں کی تعداد تقریباً دو کروڑ سے زائد ھے اور بھارت میں تقریباً اٹھائیس لاکھ ہے اور سندھی کو پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔
2012 میں سندھ میں آبادی پانچ کروڑ باون لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی.
.سندھی زبان عام طور پر ترمیم شدہ عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔
1854 میں انگریز حاکم سر برتل فریئر نے سندھی حروف تہجی الگ بنانے کے احکامات جاری کئے تھے اس وقت ھندی اور عربی رسم الخط کا دور تھا مگر سر فرئیر نے سندھ پر یہ احسان کیا کہ اسکو الگ شناخت دے گیا.....
سندھی چودھویں صدی عیسوی سے اٹھارویں صدی عیسوی تک تعلیم و تدریس کی مشہور زبان رہی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب شاہ عبداللطیف بھٹائی اور کئی دوسرے شعراء نے سندھی زبان میں اپنا صوفیانہ کلام لکھا اور انسان اور خدا کے درمیان رشتے کی وضاحت کی۔
سندھی زبان کے حامل لوگ بہت با اخلاق , مہمان نواز , نرم خو , قوم پرست , امن پسند, خاندان اور برادری پر فخر کرنے والے, دکھ درد سمجھنے والے اور دکھ میں ساتھ دینے والے لوگ ھوتے ھیں....
اور بھت زیادہ عزت دینے اور جواب میں بھی عزت کے ھی طلبگار لوگ ھوتے ھیں...
اپنی قدیم تہذیب کے محافظ , اور جنون کی حد تک اس سے محبت رکھتے ھیں.....
سبنی کنیاتُیِ پنھنجی محبوبن جا نالا.......
اسین سنڏ تنھنجو سڏائیٍ ؤئُا سین........
سندھی قوم اپنی عزت آبرو کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت , قدیم تہزیب , اپنی دھرتی, اپنی رسوم و روایات اور بالخصوص اپنی زبان پر ھمیشہ فخر کرتے ھیں یہی وجہ ھے کہ انکے ھاں گھر کے اندر ھی نہی بلکہ آپس میں ھر جگہ سندھی زبان بولی جاتی ھے اور یہ اس زبان کے قدیم اور محفوظ رھنے کی سب سے اھم وجہ ھے......
سندھ میں سندھی بولنے والوں کی مختلف ذاتیں اور برادریاں ھیں مگر سب ایک دوسرے کو انتہائ عزت دیتے ھیں.
ایک قدیم شجرہ والے سندھی ھیں ' جو خود کو اصل سندھی بتاتے ھیں۔ یہ ھندو تھے یا ھندو سے مسلمان ھوئے۔ان میں بھت سی ذاتیں آتیں ھیں. جیسے شیخ , سومرو , چانڈیو , پنہور , سموں, مینگریو , سرائ , ابڑو اور دیگر بھت سی طاقتور اور اثر و رسوخ والی زاتیں.....
جن کے نام ,شجرہ اور تفصیل کے لئے کافی تحقیق اور وقت درکار ھوگا ورنہ سرسری تعارف میں ان کی شان میں ناانصافی اور حق تلفی کا اندیشہ ھو سکتا ھے.......
بھٹو ' بھٹی ' مہر ' کلیار ' جویا ' کچھیلا ' کھرل ' سیال ' کھوکھر ' کھیڑے وغیرہ وہ مشھور و معروف ذاتیں ھیں جو کہ پنجابی شجرہ نسب رکھنے والے سندھی ھیں ' جو 1900 سے بھی بہت پہلے سے سندھ میں رہ رھے ھیں اور اب تو پنجاب سے اجداد کی نسبت پر کوئ خاص دلچسپی اور تعلق بھی نہی رھی ان کی۔
آرائیں ' جاٹ ' راجپوت ذات کے قبائل پنجابی بیک گراونڈ رکھنے والے سندھی ھیں جو 1901 اور 1932 میں جا کر سندھ میں آباد ھوئے۔ سندھ کی ثقافت اور رسم رواج اختیار کرلینے کے بعد اب وہ باقاعدہ سندھی ھی ھیں۔
چوتھے بلوچ پس منظر رکھنے والے سندھی ھیں کسی دور میں بلوچستان بھی سندھ ھوا کرتا تھا... یہ ' جو 1700 میں عباسی کلھوڑا کے سندھ پر حکومت کے دور میں سندھ آنا شروع ھوئے اور عباسی کلھوڑا سے حکومت چھین کر سندھ پر حکومت کرنا شروع کر دی اور مزید بلوچوں کو لا کر سندھ میں زمینیں دے کر آباد کرنا شروع کر دیا۔ اور زیادہ تر اپنے نام کے ساتھ اب بھی بلوچ ضرور لکھتے ھیں۔
کلہوڑہ خاندان سے تالپروں نے سندھ کی حکومت چھینی تھی اور 1843 میں انگریزوں نے تالروں کو شکست دے کے سندھ اپنے قبضے میں کرلیا.
عباسی ' انصاری ' گیلانی ' جیلانی ' قریشی ' صدیقی, سید, میمن وغیرہ عربی پس منظر کے سندھی ھیں۔ جنھوں نے محمد بن قاسم کے سندھ پر قبضے کے بعد سے عربوں اور ترکوں کے سندھ پر قبضے کے دوران ' مختلف وقتوں میں ایران کے راستے سندھ آکر آستانے اور مزار بنا کر آباد ھونا اور پیری مریدی کرنا یا حکومتی معاملات سے وابستہ ھونا شروع کیا۔
دیہی سندھ میں رھنے والے قدیم سندھیوں ' پنجابی پس منظر سندھیوں ' عربی پس منظر کے حامل سندھیوں اور بلوچ شجرہ کے سندھیوں کا آپس میں بھت اچھا تجارتی , سماجی اور باھمی تعلق اور رشتہ ھے۔ جو انکی یکجہتی اور اخوت کی نشانی بھی ھے.
سندھ کے عوام سندھ کے حوالے سے سندھ کے جغرافیہ, یکجہتی ثقافت ,اور سندھ کی تاریخ کی حقیقی تصویر کشی کے بارے میں کافی حساس ہیں۔۔
سندھ امن کی وادی ہے جو یہاں آیا وہ یہاں کا ہو گیا۔ نہ صرف سندھ کی مٹی بلکہ سندھ کا دریا اور سندھ کا سمندر بھی صدیوں سے امن کے نغمے گاتے آئے ہیں۔
ہندوؤں کی اک مقدس کتاب وید میں لکھا ہوا ہے کہ جب دریائے سندھ سے پانی شور مچاتا ہوا سندھ سے گزرنے لگتا اور سمندر کی طرف بڑھنے لگتا تو اس میں سے امن کی موسیقی اور ”ترنم“ پھوٹ نکلتا ہے .....۔ سندھ میں امن، پیار اور محبت کی بات تو کر کے دیکھیں آپ حیران ہوں گے کہ ہر طرف سے سندھی اپنی محبت آپ پر نچھاور کر دیں گے۔ سندھ کے قومی شاعر شیخ ایاز نے کہا ہے کہ ”جھول جھلی جڈھن بھٹائی، کرندا کندھ ہزار او یار“۔ جب بھی شاہ لطیف نے جھولی پھیلائی تو ہزاروں سندھیوں کے سر اس جھولی میں ہوں گے۔ پاکستان میں شامل ہونے سے پہلے سندھ کبھی بھی کسی ملک کا صوبہ یا ریاست نہیں رہا ہے۔ سندھ صدیوں سے ایک ملک یا ریاست جیسی حالت مں تھا. اگر کسی کا غلام رہا تو بھی ایک ریاست کی حیثیت میں اور اگر آزاد رہا تو بھی آزاد حیثیت میں۔ انگریزوں نے سندھ پر جس وقت قبضہ کیا تھا۔ اس وقت سندھ ایک وسیع وعریض آزاد خطہ تھا۔
خطے میں سندھ پہلا علاقہ تھا جس کی اسمبلی میں پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی گئی تھی۔ میری ناقص معلومات کے مطابق سندھ کی خوبصورتی یا فخر کا اندازہ آپ یوں بھی لگا سکتے ھیں کہ بلوچ ذات کا مضبوط قبیلہ اپنے آبآئ ہجرت کے مقام کے بجائےسندھی تعارف پر زیادہ اطمینان محسوس کرتا ھے...... پنجابی اور سرائیکی پس منظر یا تعلق والے سندھی بھی سندھ کو ھی اپنی دھرتی ماں کا درجہ دے کر تقریباُ شہری اور دیہی دونوں جگہوں پر آباد ھیں.......
شکارپور اور حیدرآباد میں پٹھان ذات اور لقب کے سندھی بھی خود کو اس دھرتی پر قربان ھونے کو اپنا فخر بتاتے ھیں.....
بدین میں آفریدی پختونوں نے نہ صرف سندھی ذبان اور ثقافت کو اپنایا ھے بلکہ دیگر سندھی برادریوں میں انکی رشتہ داریاں بھی ھیں اور انکی موجودہ نسل کی اکثریت تو اپنے آبائ مقام ء ھجرت تک سے نابلد ھے......
کراچی , حیدرآباد اور سکھر اردو بولنے والے سندھیوں کے مرکزی اور اکثریتی اضلاع ھیں جو کہ باقاعدہ سندھی ماحول میں رچے بسے ھوئے ھیں......
اتنی ساری قوموں کے اختلاط و اشتراک کو ایک زبان , ایک ثقافت نے مضبوط رشتے میں جکڑ کر ایک خوبصورت گلدستے کی حیثیت دے دی ھے......
سندھ سے پیدائشی نسبت کے زیر اثر اپنی انسیت کو ان بے ترتیب جملوں اور الفاظ کی ادائیگی کے ساتھ میں نے اپنی جانب سے انتہائ احتیاط, عقیدت اور احترام کے ساتھ ادا کرنے کی جسارت کی ھے اس کے باجود کسی بھی مقام پر کسی ممکنہ غلطی سے انکاری نھیں بلکہ انتہائ عجزؤانکساری کے ساتھ کہ اسے میری لا علمی سمجھا جائے اس ضمن میں قارئین کی کسئ بھی اصلاحی اور تصحیحی نشاندھی کو میں اپنے لئے مشعلء راہ اور اعزاز تصور کرونگا.... بقول شاعر..
جیکڏھن ساھ کیِ نالو ڏئن جو رواج ھجی ھا.................
تہ آئون پنھنجئ ساھ کیِ ,, سنڏ ,, نالو ڏیان ھا..........
تحقیق و تحریر....
# سردار رب نواز

Comments

Popular posts from this blog

Bhara kahu 11 Marla (old Marla 272) house single story only 75 Lakh

Bhara kahu 11 Marla (old Marla 272) house single story only 75 Lakh Details: the house is loacted in shah poor ,bharakhu,islamabad The house is single story   there is old marlas like 272 Unnegotiable   25 feet street 3 Bedrooms, 2 Washrooms, Drawing Room TV Lounge, Broad Grage, Mumty, You Can Also check on https://www.olx.com.pk/item/bhara-kahu-11-marla-old-marla-272-house-single-story-only-75-lakh-IDWFki6.html

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام انو جانی ! تمہارا خط ملا، پاکستان کے حالات پڑھ کر کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ یہاں بھی اسی قسم کے حالات چل رہے ہیں۔شاعروں اور ادیبوں نے مر مر کر یہاں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔مجھے یہاں بھائیوں کے ساتھ رہنے کا کہا گیا تھا، میں نے کہا کہ میں زمین پر بھی بھائیوں کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا، مجھے ایک الگ کوارٹر عنایت فرمائیں۔مصطفیٰ زیدی نے یہ کام کر دیا اور مجھے کواٹر مل گیا، مگر اس کا ڈیزائن نثری نظم کی طرح کا ہے جو سمجھ میں تو آجاتی ہے لیکن یاد نہیں رہتی، روزانہ بھول جاتا ہوں کہ میرا بیڈ روم کہاں ہے۔ لیکن اس کوارٹر میں رہنے کا ایک فائدہ ہے، میر تقی میر کا گھر سامنے ہے۔ ان کے 250 اشعار جن میں وزن کا فقدان تھا، نکال چکا ہوں مگر میر سے کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ کُوچہ شعر و سخن میں سب سے بڑا گھر غالب کا ہے۔میں نے میر سے کہا آپ غالب سے بڑے شاعر ہیں آپکا گھر ایوانِ غالب سے بڑا ہونا چاہئے، میر نے کہا ، دراصل وہ گھر غالب کے سسرال کا ہے، غالب نے اس پر قبضہ جما لیا ہے۔میر کے گھر کوئی نہیں آتا، سال بھر کے عرصے میں بس ایک بار ناصر کاظمی آئے وہ بھی میر کے کب...

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کے انسانوں نے دنیا میں تباہی و بربادی اور فتنہ و فساد کے جو طوفان بپا کر دیئے ہیں ، اس نے شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور وہ اب اس کے بارے میں کیا خیالات رکھتا ہے، شاعر کے تخیل کی آنکھ سے دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یارب اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے بھی سر نہ جھکایا یارب لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ میں توبہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اس کی قلب و جاں پاک تھے، شفاف تھی طینت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں پکتا رہتا ہے ہمیشہ ہی لاوا اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک اک سانس ہے اب صورتِ شعلہ اس میں آگ موجود تھی کیا مجھ سے بھی زیادہ اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا آتشکدہءِ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں سوچتا ہوں ...