ہالی وڈ موویز
ایک جملہ آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔۔۔۔یہ 64 قبل مسیح کا واقعہ ہے جب روم میں شدید آگ لگی جس میں دارالسلطنت کا آدھے سے زیادہ علاقہ جل کر راکھ ہو گیا اور ہزاروں انسان زندہ جل گئے۔۔۔۔۔۔۔جب روم جل رہا تھا تو نیرو 53میل دور واقع اپنے محل کی ایک پہاڑی پر بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ چونکہ نیرو عیاش اور اذیت پسند تھا لہٰذا یہ آگ اس نے خود لگوائی تاکہ جلتے مرتے لوگوں کی دلدوز چیخوں سے محظوظ ہو سکے۔۔۔۔۔۔
مشہور زمانہ ٹی وی سیریز "گیم آف تھرونز" میں اقتدار کہ رسہ کشی تو سب نے دیکھی ہوگی۔۔۔۔۔۔نیرو کا برسراقتدار آنا بھی اقتدار کی رسہ کشی کے خود غرضانہ کھیل کا ایک عجیب موڑ تھا۔۔۔۔۔۔ نیرو موسیقی کا رسیا تھا جسے کسی ناچنے والے گھر میں جنم لینا تھا مگر شاہی خاندان میں پیدا ہو گیا۔۔۔۔۔۔اس لئے وہ تخت نشین ہونے کے بعد بھی باقاعدہ ناچتا گاتا اور اپنے درباریوں سے داد وصول کرتا۔۔۔۔۔ اس کی ماں ایپرپینا نے اپنے شوہر کو زہر دے دیا تاکہ اس کا بیٹا نیرو بادشاہت کا حقدار بن سکے۔۔۔۔۔ اس کے چچا کلاڈیئس نے اپنے بھتیجے نیرو کو تخت و تاج کا وارث نامزد کر دیا لیکن یہ شخص ایسا احسان فراموش اور مطلبی نکلا کہ اس نے تخت نشین ہوتے ہی سب سے پہلے اسے ٹھکانے لگایا جس کی وجہ سے اسے اقتدار نصیب ہوا۔۔۔۔
اس کے بعد اس نے اپنے محسن چچا کے بیٹے کو مروایا اور پھر اپنی ماں کو قتل کر دیا۔۔۔۔ اپنی ایک بیوی کو اس نے تب لات مار کر ہلاک کر دیا جب وہ حاملہ تھی۔۔۔۔اسے جب جو لڑکی پسند آتی، اس کے شوہر کو قید میں ڈال کر اپنے پاس رکھ لیتا۔۔۔۔۔۔ناول نگارGaius Suetonius اپنے ناول میں نیرو کی خباثت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جب نیرو کا دل شادیوں سے بھر گیا تو اس نے جی بہلانے کے لئے ایک نئی ترکیب سوچی۔۔۔ وہ اپنے سپاہیوں کے ذریعے انتہائی پاکباز و پاکدامن کنواری لڑکیوں کی کھوج لگواتا،انہیں اپنے کارندے بھیج کر زبردستی اٹھواتا اور اپنے جنسی درندوں کے حوالے کر دیتا تاکہ وہ اجتماعی آبروریزی کا شوق پورا کر سکیں۔۔۔۔۔ جب درندگی کا یہ کھیل شروع ہوتا اور مظلوم لڑکیوں کی دلدوز چیخوں سے زمین لرز رہی ہوتی تو یہ نفسیاتی مریض حظ اُٹھاتا اور اپنے جذبات کی تسکین کرتا۔۔۔۔۔ اقتدار کے آخری ایام میں اس نے ایک اور خباثت یہ کی کہ ایک انتہائی حسین و جمیل لڑکے کو عمل اخصاء کے ذریعے نا مرد کیا اور دلہن بنانے کے بعد زندگی بھر اپنے پاس رکھا۔۔۔۔۔ ایک مرتبہ جب نیرو کے دوست اور آرمینیا کے شہنشاہ ٹریدیٹس نے روم کی سیر کو آنا تھا تو نیرو نے گلیڈیٹرز کے کھیل میں جدت پیدا کرنے کے لئے اس میں گلیڈیٹر عورتوں کا اضافہ کر دیا اور مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی وحشی درندوں کے درمیان چھوڑ دیا گیا۔۔۔۔۔۔
سلطنت روما کے مظالم کے خلاف اگر کسی نے آواز اٹھائی تو وہ "سپارٹکس" تھا۔۔۔۔۔آزادی کا متوالا اور سلطنت روما کا باغی سپارٹکس جس پر فلمیں بنا بنا کر ہالی وڈ پیسے کماتا ہے۔۔۔۔۔ابتدا میں وہ بھی رومن فوج کا ایک سپاہی تھا پھر کسی شاہی فرمان کی حکم عدولی کرتے ہوئے اس نے اپنی عوام پر ہتھیار اٹھانے سے انکار کر دیا جس کی پاداش میں اس کے بیوی بچوں کو زندہ جلا کر اسے قید کر دیا گیا جہاں وہ اپنے ستر ساتھیوں سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔۔۔فرار ہو کر اس نے جنگل میں پناہ لی اور قریبی رومی بستیوں پر اکا دکا حملے شروع کر دیے۔۔۔۔۔اس کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے غلام طبقہ اسے اپنا مسیحا سمجھنے لگا اور یوں اس کی تعداد ستر سے بڑھ کر سات سو اور پر سات ہزار تک جا پہنچی۔۔۔۔۔۔اب اس نے رومی افواج پر حملے شروع کر دیے جس کی سرکوبی کے لیے روم نے کئی دفعہ لشکر کشی کی لیکن ہر دفعہ سپارٹکس نے اپنی جنگی چالوں سے انہیں مات دی۔۔۔۔۔۔۔ایک وقت آیا جب سپارٹکس کے ساتھیوں کی تعداد ایک لاکھ ہوگئی جس میں عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی بھی کثیر تعداد شامل تھی جو سلطنت روما کے مظالم سے تنگ آکر نکلے تھے۔۔۔اب سپارٹکس کو اپنے ساتھیوں کی آباد کاری کی فکر ستانے لگی کیوں کہ ایک لاکھ لوگوں کو جنگل جنگل لے کر پھرنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔یہی سوچ کر اس نے سمندر پار سسلی میں اپنے ساتھیوں کی آبادکاری کا سوچا لیکن اس کے دوست نے مخالفت کی اور اپنے تیس ہزار جنگجو ساتھیوں سمیت علحیدہ ہوکر سلطنت روما سے بھڑ گیا جس کے نتیجے میں اسے شکست ہوئی اور مارا گیا۔۔۔۔۔۔اب سپارٹکس نے آخری فیصلہ کیا اور اپنے ساتھیوں کو سمندر پار آباد کرنے کے لیے چل نکلا لیکن سلطنت روما نے اسے یہ موقع نہ دیا اور راستے میں اس پر پوری طاقت سے حملہ کر کے شکست فاش دے دی۔۔۔۔۔اس حملہ میں سپارٹکس مارا گیا اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ بعد میں جو انسانیت سوز سلوک کیا گیا وہ تاریخ کا حصہ ہے لیکن سپارٹکس کی اس مزاحمت کا یہ نتیجہ نکلا کہ سلطنت روما کہ غلاموں کو عقل آگئی اور وہ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوگئے جس کے بعد ان کی طویل جدوجہد نے بالآخر انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

Comments
Post a Comment