Skip to main content

ہالی وڈ موویز

 ہالی وڈ موویز


میں ایسی ہالی وڈ موویز شوق سے دیکھتا ہوں جس میں قدیم تہذیبوں کا نقشہ کھینچا گیا ہو۔۔۔۔۔ہالی وڈ نے سلطنت روما کے کردار "گلیڈی ایٹر" پر سینکڑوں فلمیں بنائی ہیں جس میں دکھایا گیا ہے کہ انسانوں کو پنجروں میں پالا جاتا تھا اور ہر سال ایک مقابلہ ہوتا تھا جس میں انسانوں کو جنگلی درندوں کے ساتھ لڑایا جاتا تھا۔۔۔۔۔یہ کھیل اتنا مشہور ہوا کہ اسے سلطنت روما کے قومی کھیل کی حیثیت حاصل ہوگئی۔۔۔۔اس متعلق ناول نگار Gaius Suetonius کے ناول The twelve ceasre کو تاریخی حیثیت حاصل ہے جس میں نیرو کے کردار کو بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔۔۔۔۔
ایک جملہ آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔۔۔۔یہ 64 قبل مسیح کا واقعہ ہے جب روم میں شدید آگ لگی جس میں دارالسلطنت کا آدھے سے زیادہ علاقہ جل کر راکھ ہو گیا اور ہزاروں انسان زندہ جل گئے۔۔۔۔۔۔۔جب روم جل رہا تھا تو نیرو 53میل دور واقع اپنے محل کی ایک پہاڑی پر بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ چونکہ نیرو عیاش اور اذیت پسند تھا لہٰذا یہ آگ اس نے خود لگوائی تاکہ جلتے مرتے لوگوں کی دلدوز چیخوں سے محظوظ ہو سکے۔۔۔۔۔۔
مشہور زمانہ ٹی وی سیریز "گیم آف تھرونز" میں اقتدار کہ رسہ کشی تو سب نے دیکھی ہوگی۔۔۔۔۔۔نیرو کا برسراقتدار آنا بھی اقتدار کی رسہ کشی کے خود غرضانہ کھیل کا ایک عجیب موڑ تھا۔۔۔۔۔۔ نیرو موسیقی کا رسیا تھا جسے کسی ناچنے والے گھر میں جنم لینا تھا مگر شاہی خاندان میں پیدا ہو گیا۔۔۔۔۔۔اس لئے وہ تخت نشین ہونے کے بعد بھی باقاعدہ ناچتا گاتا اور اپنے درباریوں سے داد وصول کرتا۔۔۔۔۔ اس کی ماں ایپرپینا نے اپنے شوہر کو زہر دے دیا تاکہ اس کا بیٹا نیرو بادشاہت کا حقدار بن سکے۔۔۔۔۔ اس کے چچا کلاڈیئس نے اپنے بھتیجے نیرو کو تخت و تاج کا وارث نامزد کر دیا لیکن یہ شخص ایسا احسان فراموش اور مطلبی نکلا کہ اس نے تخت نشین ہوتے ہی سب سے پہلے اسے ٹھکانے لگایا جس کی وجہ سے اسے اقتدار نصیب ہوا۔۔۔۔
اس کے بعد اس نے اپنے محسن چچا کے بیٹے کو مروایا اور پھر اپنی ماں کو قتل کر دیا۔۔۔۔ اپنی ایک بیوی کو اس نے تب لات مار کر ہلاک کر دیا جب وہ حاملہ تھی۔۔۔۔اسے جب جو لڑکی پسند آتی، اس کے شوہر کو قید میں ڈال کر اپنے پاس رکھ لیتا۔۔۔۔۔۔ناول نگارGaius Suetonius اپنے ناول میں نیرو کی خباثت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جب نیرو کا دل شادیوں سے بھر گیا تو اس نے جی بہلانے کے لئے ایک نئی ترکیب سوچی۔۔۔ وہ اپنے سپاہیوں کے ذریعے انتہائی پاکباز و پاکدامن کنواری لڑکیوں کی کھوج لگواتا،انہیں اپنے کارندے بھیج کر زبردستی اٹھواتا اور اپنے جنسی درندوں کے حوالے کر دیتا تاکہ وہ اجتماعی آبروریزی کا شوق پورا کر سکیں۔۔۔۔۔ جب درندگی کا یہ کھیل شروع ہوتا اور مظلوم لڑکیوں کی دلدوز چیخوں سے زمین لرز رہی ہوتی تو یہ نفسیاتی مریض حظ اُٹھاتا اور اپنے جذبات کی تسکین کرتا۔۔۔۔۔ اقتدار کے آخری ایام میں اس نے ایک اور خباثت یہ کی کہ ایک انتہائی حسین و جمیل لڑکے کو عمل اخصاء کے ذریعے نا مرد کیا اور دلہن بنانے کے بعد زندگی بھر اپنے پاس رکھا۔۔۔۔۔ ایک مرتبہ جب نیرو کے دوست اور آرمینیا کے شہنشاہ ٹریدیٹس نے روم کی سیر کو آنا تھا تو نیرو نے گلیڈیٹرز کے کھیل میں جدت پیدا کرنے کے لئے اس میں گلیڈیٹر عورتوں کا اضافہ کر دیا اور مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی وحشی درندوں کے درمیان چھوڑ دیا گیا۔۔۔۔۔۔
سلطنت روما کے مظالم کے خلاف اگر کسی نے آواز اٹھائی تو وہ "سپارٹکس" تھا۔۔۔۔۔آزادی کا متوالا اور سلطنت روما کا باغی سپارٹکس جس پر فلمیں بنا بنا کر ہالی وڈ پیسے کماتا ہے۔۔۔۔۔ابتدا میں وہ بھی رومن فوج کا ایک سپاہی تھا پھر کسی شاہی فرمان کی حکم عدولی کرتے ہوئے اس نے اپنی عوام پر ہتھیار اٹھانے سے انکار کر دیا جس کی پاداش میں اس کے بیوی بچوں کو زندہ جلا کر اسے قید کر دیا گیا جہاں وہ اپنے ستر ساتھیوں سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔۔۔فرار ہو کر اس نے جنگل میں پناہ لی اور قریبی رومی بستیوں پر اکا دکا حملے شروع کر دیے۔۔۔۔۔اس کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے غلام طبقہ اسے اپنا مسیحا سمجھنے لگا اور یوں اس کی تعداد ستر سے بڑھ کر سات سو اور پر سات ہزار تک جا پہنچی۔۔۔۔۔۔اب اس نے رومی افواج پر حملے شروع کر دیے جس کی سرکوبی کے لیے روم نے کئی دفعہ لشکر کشی کی لیکن ہر دفعہ سپارٹکس نے اپنی جنگی چالوں سے انہیں مات دی۔۔۔۔۔۔۔ایک وقت آیا جب سپارٹکس کے ساتھیوں کی تعداد ایک لاکھ ہوگئی جس میں عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی بھی کثیر تعداد شامل تھی جو سلطنت روما کے مظالم سے تنگ آکر نکلے تھے۔۔۔اب سپارٹکس کو اپنے ساتھیوں کی آباد کاری کی فکر ستانے لگی کیوں کہ ایک لاکھ لوگوں کو جنگل جنگل لے کر پھرنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔یہی سوچ کر اس نے سمندر پار سسلی میں اپنے ساتھیوں کی آبادکاری کا سوچا لیکن اس کے دوست نے مخالفت کی اور اپنے تیس ہزار جنگجو ساتھیوں سمیت علحیدہ ہوکر سلطنت روما سے بھڑ گیا جس کے نتیجے میں اسے شکست ہوئی اور مارا گیا۔۔۔۔۔۔اب سپارٹکس نے آخری فیصلہ کیا اور اپنے ساتھیوں کو سمندر پار آباد کرنے کے لیے چل نکلا لیکن سلطنت روما نے اسے یہ موقع نہ دیا اور راستے میں اس پر پوری طاقت سے حملہ کر کے شکست فاش دے دی۔۔۔۔۔اس حملہ میں سپارٹکس مارا گیا اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ بعد میں جو انسانیت سوز سلوک کیا گیا وہ تاریخ کا حصہ ہے لیکن سپارٹکس کی اس مزاحمت کا یہ نتیجہ نکلا کہ سلطنت روما کہ غلاموں کو عقل آگئی اور وہ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوگئے جس کے بعد ان کی طویل جدوجہد نے بالآخر انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

Comments

Popular posts from this blog

Bhara kahu 11 Marla (old Marla 272) house single story only 75 Lakh

Bhara kahu 11 Marla (old Marla 272) house single story only 75 Lakh Details: the house is loacted in shah poor ,bharakhu,islamabad The house is single story   there is old marlas like 272 Unnegotiable   25 feet street 3 Bedrooms, 2 Washrooms, Drawing Room TV Lounge, Broad Grage, Mumty, You Can Also check on https://www.olx.com.pk/item/bhara-kahu-11-marla-old-marla-272-house-single-story-only-75-lakh-IDWFki6.html

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام انو جانی ! تمہارا خط ملا، پاکستان کے حالات پڑھ کر کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ یہاں بھی اسی قسم کے حالات چل رہے ہیں۔شاعروں اور ادیبوں نے مر مر کر یہاں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔مجھے یہاں بھائیوں کے ساتھ رہنے کا کہا گیا تھا، میں نے کہا کہ میں زمین پر بھی بھائیوں کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا، مجھے ایک الگ کوارٹر عنایت فرمائیں۔مصطفیٰ زیدی نے یہ کام کر دیا اور مجھے کواٹر مل گیا، مگر اس کا ڈیزائن نثری نظم کی طرح کا ہے جو سمجھ میں تو آجاتی ہے لیکن یاد نہیں رہتی، روزانہ بھول جاتا ہوں کہ میرا بیڈ روم کہاں ہے۔ لیکن اس کوارٹر میں رہنے کا ایک فائدہ ہے، میر تقی میر کا گھر سامنے ہے۔ ان کے 250 اشعار جن میں وزن کا فقدان تھا، نکال چکا ہوں مگر میر سے کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ کُوچہ شعر و سخن میں سب سے بڑا گھر غالب کا ہے۔میں نے میر سے کہا آپ غالب سے بڑے شاعر ہیں آپکا گھر ایوانِ غالب سے بڑا ہونا چاہئے، میر نے کہا ، دراصل وہ گھر غالب کے سسرال کا ہے، غالب نے اس پر قبضہ جما لیا ہے۔میر کے گھر کوئی نہیں آتا، سال بھر کے عرصے میں بس ایک بار ناصر کاظمی آئے وہ بھی میر کے کب...

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کے انسانوں نے دنیا میں تباہی و بربادی اور فتنہ و فساد کے جو طوفان بپا کر دیئے ہیں ، اس نے شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور وہ اب اس کے بارے میں کیا خیالات رکھتا ہے، شاعر کے تخیل کی آنکھ سے دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یارب اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے بھی سر نہ جھکایا یارب لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ میں توبہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اس کی قلب و جاں پاک تھے، شفاف تھی طینت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں پکتا رہتا ہے ہمیشہ ہی لاوا اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک اک سانس ہے اب صورتِ شعلہ اس میں آگ موجود تھی کیا مجھ سے بھی زیادہ اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا آتشکدہءِ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں سوچتا ہوں ...