Skip to main content

امیرشہر ہوش میں آ

امیرشہر ہوش میں آ

کچھ دن پہلے میرے ایک استادمحترم نے فیس بک پر یہ تصویر پوسٹ کی ہوئی تھی اور اوپر لکھا کہ”عنوان دیجئے ” بلا شبہ یہ پوسٹ بہت ہی با مقصد تھی اور یقیناًاس تصویر کو انتہائی خوبصورت عنوان ملے ہونگے.کیونکہ تصویر میں مزدور چاچا جی کے چہرے سے پریشانی،غربت اور بے بسی کے آثار صاف نظر آ رہے ہیں.تو میں نےبھی عنوان دینے کاجذباتی فیصلہ لے ہی لیا اور اپنا عنوان دے دیا.اگر ہماری نوجوان نسل بھی انہیں سر گرمیوں کا حصہ بن جاۓ تو شاید ظالم سرمایا داران کو رحم آ جاۓ یا ہو سکتا ہے یہ سرمایا دارانہ نظام ہی ختم ہو جاۓ. ہمارے ساتھ کیا جانے والا کیڑے مکوڑوں والا برتاؤ ختم ہو جاۓگا .شاید ہمیں انسان سمجھا جاۓ اور آزاد اور عزت کی زندگی ملے.
خیر میرا عنوان یہ تھا “امیر شہر ہوش میں آ” کیوں کہ چند ارب پتی کئی برس سے ہمیں غلام ہی سمجھتے آ رہے ہیں حالانکہ کوئی بھی ریاست ارب پتی کے بغیرچل سکتی ہے لیکن مزدور کے بغیر نہیں .مزدور طبقہ نا ہوتا تو شاید یہ لوگ بنگلوں میں نا بیٹھے ہوتے مزدور نا ہوتے تو ان کی فیکٹریاں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہوتی.دن رات جی توڑ محنت کرنے والوں کو کوئی مراعات نہیں چاہیئں بس اتنا دے دو کہ بیچارے خودکشی پے مجبور نہ ہوں اتنا دے دو کہ وہ بچوں کو خوش رکھ سکیں ،تعلیم دے سکیں .تعلیم تو جیسے صرف ایلیٹ کلاس والوں پے فرض ہے .میرٹ صرف غریب کے لئے ہے امیر کے لئیے کوئی حد نہیں ہے .غریب ہائی سکول اور سرکاری کالج میں پڑھ کے اپنے مستقبل کو داؤ پے لگاتا ہے لیکن امیر اعلی تعلیم کے لئے بیرون ملک چلا جاتا ہے.پاکستان قرضوں میں حیران کن طور پے جکڑ چکا ہے اس کی وجہ ارب پتی سرمایا دار اور ہمارے نام نہاد سیاستدان ہیں .غریب کی محنت کا نعم البدل نہیں ملتا .چاہے محنت کش کا چولھا بند پڑ جاۓلیکن فیکٹری مالکان کی فیکٹریاں پرافٹ پے جانی چاہیے . غریب چاہے بجلی ،پانی ،گیس ،روٹی ،کپڑا ،مکان سے محروم رہ جاۓ پر سیاست دانوں کی سیاست چمکتی رہنی چاہیے .
ایک چینی محاورہ ہے (work like a donkey and live like a king) لیکن پاکستان میں کچھ الٹ ہی ہے.پاکستانی عوام کو اس چیز کا عادی بنایا گیا ہے کہ تم نے بس ذلیل ہونا ہے .یہاں پے چینی محاورہ کچھ اس طرح سے لاگو ہو گا (work like a donkey and live like a dog) انتہائی معذرت کے ساتھ کہ ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے .کتے کو مالک جو کہتا وہ وہی کرتا ہے اور دم ہلا کے مالک کے تلوے چاٹتا ہے .محنت کش کسی کا غلام نہیں ہے اسے خون پسینے کی کمائی کا صحیح نعم البدل دیا جاۓ .غریب کی محنت دیکھ کے یہ خواہش اٹھتی ہے کہ کاش کسان فصل اگاتا توسونا پیدا ہوتا ،مزدور گارے میں ہاتھ ڈالتا تو گارا سونے میں تبدیل ہو جاتا لیکن ایسا معجزہ نہیں ہونے والا .اس مزدور کی طرح لاکھوں کروڑوں مزدور ہیں جن کے چہرے سے پریشانی ،مایوسی ،ڈر اور نا امیدی کے آثار ٹپکتے ہیں. ہمیں ایسا نظام نہیں چاہیے جس میں خاص طبقہ عیاشی کرے اور عام لوگ ذلت اور غلامی کی زندگی گزاریں .ہمیں اس نظام کو چینج کرنا ہو گا.اس نظام کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہوگا .میں ان چچا جی اور ان جیسے لاکھوں کروڑوں بھائیوں کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں.
تحریر: صہیب خان گورمانی

Comments

Popular posts from this blog

Bhara kahu 11 Marla (old Marla 272) house single story only 75 Lakh

Bhara kahu 11 Marla (old Marla 272) house single story only 75 Lakh Details: the house is loacted in shah poor ,bharakhu,islamabad The house is single story   there is old marlas like 272 Unnegotiable   25 feet street 3 Bedrooms, 2 Washrooms, Drawing Room TV Lounge, Broad Grage, Mumty, You Can Also check on https://www.olx.com.pk/item/bhara-kahu-11-marla-old-marla-272-house-single-story-only-75-lakh-IDWFki6.html

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام انو جانی ! تمہارا خط ملا، پاکستان کے حالات پڑھ کر کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ یہاں بھی اسی قسم کے حالات چل رہے ہیں۔شاعروں اور ادیبوں نے مر مر کر یہاں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔مجھے یہاں بھائیوں کے ساتھ رہنے کا کہا گیا تھا، میں نے کہا کہ میں زمین پر بھی بھائیوں کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا، مجھے ایک الگ کوارٹر عنایت فرمائیں۔مصطفیٰ زیدی نے یہ کام کر دیا اور مجھے کواٹر مل گیا، مگر اس کا ڈیزائن نثری نظم کی طرح کا ہے جو سمجھ میں تو آجاتی ہے لیکن یاد نہیں رہتی، روزانہ بھول جاتا ہوں کہ میرا بیڈ روم کہاں ہے۔ لیکن اس کوارٹر میں رہنے کا ایک فائدہ ہے، میر تقی میر کا گھر سامنے ہے۔ ان کے 250 اشعار جن میں وزن کا فقدان تھا، نکال چکا ہوں مگر میر سے کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ کُوچہ شعر و سخن میں سب سے بڑا گھر غالب کا ہے۔میں نے میر سے کہا آپ غالب سے بڑے شاعر ہیں آپکا گھر ایوانِ غالب سے بڑا ہونا چاہئے، میر نے کہا ، دراصل وہ گھر غالب کے سسرال کا ہے، غالب نے اس پر قبضہ جما لیا ہے۔میر کے گھر کوئی نہیں آتا، سال بھر کے عرصے میں بس ایک بار ناصر کاظمی آئے وہ بھی میر کے کب...

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کے انسانوں نے دنیا میں تباہی و بربادی اور فتنہ و فساد کے جو طوفان بپا کر دیئے ہیں ، اس نے شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور وہ اب اس کے بارے میں کیا خیالات رکھتا ہے، شاعر کے تخیل کی آنکھ سے دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یارب اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے بھی سر نہ جھکایا یارب لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ میں توبہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اس کی قلب و جاں پاک تھے، شفاف تھی طینت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں پکتا رہتا ہے ہمیشہ ہی لاوا اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک اک سانس ہے اب صورتِ شعلہ اس میں آگ موجود تھی کیا مجھ سے بھی زیادہ اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا آتشکدہءِ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں سوچتا ہوں ...