Skip to main content

مشوم میاں اور پاکستان



مشوم میاں اور پاکستان :
ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شحص کو موسمیات کا وزیر لگا دیا. ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے وزیر موسمیات سے موسم کا حال احوال پوچها.... وزیر نے کہا کہ موسم شکار کے لیے بڑا لاجواب ہے اور شکار کے لیے اگلے روز تک موسم اسی طرح ساز گار رہے گا . بارش وغیرہ کا تو دور دور تک کوئی بهی امکان نہیں . بادشاہ اپنے لاؤ لشکر کے ساته مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا شاہی انداز میں شکار کهیلنے روانہ ہوا....
راستے میں آیک کمہار چاچا شرفو نے بادشاہ کی سواری دیکهی تو بادشاہ سلامت سے سلام کرتے ھوئے کہا...
حضور آپکا اقبال بلند ہو آپ اس خراب موسم میں کہاں جارہے ہیں..
بادشاہ نے پہلے تو چآچا شرفو کو دیکها اور بڑے تکبر سے جواب دیا.. شکار پہ جارہا ہوں...
حضور والا موسم بڑا خراب ہے اور کچھ ہی پل میں شدید بارش آنے کے امکانات ہیں آپ اپنا ارادہ ملتوی کردیں.
بادشاہ کو چاچا شرفو کی یہ بات بہت ناگوار لگی اور گهوڑے سے ایک لات اسکی پسلی میں رسید کی اور کہا ابے او مٹی کے برتن بنا کر گدهے پہ لادنے والے الو...
تم کیا جانو موسم کیا ہوتا ہے...
موسم سمجهنے کے لیے بہت پڑهائیاں کرنی پڑتی ھیں بڑے علوم اور عقل و دانش کی ضرورت ھوتی ھے..
میرے قابل ترین وزیر نے بتایا ہے کہ موسم بہت پیارا اور خوشگوار ہے اور شکار کے لیے بہت ہی موزوں ہے اور تم جاھل گنوار کہہ رہے ہوں کہ بارش ہونے والی ھے.... بادشاہ نے ایک سپاھی سے کہا کہ اس کمہار کو خوب جوتیاں ماری جایئں..
پادشاہ کے حکم پہ عمل کیا گیا اور چاچا شرفوکو اس گستاخی پر جوتیاں مار مار کر بے حال کردیا
اس کے بعد بادشاہ سلامت جنگل میں داخل ہوگیا ابهی بس تهوڑی ہی دیر گزری تهی کہ گهٹا ٹوپ بادل چها گئے ایک آدها گهنٹہ بعد بادلوں کی کڑک کے ساتھ اور گرج چمک کے ساتھ شدید طوفانی بارش کا آغاز ہوگیا....
بارش بهی ایسی کہ اللہ کی پناہ ... بادوباراں... ہر طرف کیچڑ اور دلدل بن گئے...
بادشاہ کا شکار کا نشہ ہی اتر گیا اور سردی سے بخار بھی چڑھ گیا...
جنگل پانی سے جل تهل ہوگیا... ایسے میں بهلا حاک شکار ہوتا
بادشاہ نے واپسی کا سفر شروع کیا اور برے حالوں اپنے محل میں پہنچا
واپس آکر آتے ہی بستر پہ لیٹ گیا اور بستر پہ پڑے پڑے ہی دو کام کیئے...
پہلا کام یہ کہ وزیر موسمیات کو برطرف کیا اور دوسرا یہ کہ چاچا شرفو کو فوری دربار مین طلب کیا...
کمھار چاچا شرفو ہائے میں مرگیا ... اوے اماں... کی ہلکی ہلکی آوازیں نکالتا ہوا ڈرتے ڈرتے دربار میں پیش ہوا...
بادشاہ نے کمہار کوکہا... اے عقل کے مینار انسان... آج سے تو ہمارا وزیر موسمیات ہے ...
چاچا شرفو نے جیسے ہی یہ سنا تو ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا... حضور ...!!!
کہاں میں جاہل اور ان پڑھ گنوار انسان اور کہاں بادشاہ کی سلنطت کا وزیرءموسمیات ہونا...
مجهے تو صرف برتن بنا کر بهٹی میں پکانے اور اپنے مشوم میاں کے ساتھ جا کر دوسرے علاقوں میں بیچنے کے علاوہ اور کوئی کام ہی نهی آتا...
مجهے تو موسم کے بارے میں الف ب کا بھی علم نهی ہاں البتہ یہ ہے کہ میرا مشوم میاں مجھے بتا دیتا ھیکہ بارش ضرور ہوگی اور کهبی بهی مشوم میاں کی پیشن گوئی غلط نہیں ہوتی....
بادشاہ نے جلالی و شاہی انداز میں حکم جاری کیا...
مشوم میاں کو پورے شاھی استقبال کے ساتھ جلد از جلد پیش کیا جاے..
ہم دیکهنا چاہتے هیں کہ مشوم میاں کو کہ اللہ نے اتنی زبردست خوبیوں سے کیسے نوازا ہے...
کچھ دیر بعد دو تین سپاہی دربار میں دھکے لگاتے کهنچتے ہوئے اور منت سماجت کرتے ہوئے ایک گدهے کو دربار میں لیکر آگئے...
بادشاہ کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ مشوم میاں کی جگہ یہ گدھا کیوں لایا گیا.
چاچا شرفو نے بادشاہ سلامت سے کہا...
حضور یہ گدھا میرا مشوم میاں ھے....!!
موسم کی خرابی کی صورت میں یہ اپنے کان کھڑے کر لیتا ھے اور پھر لازمی بارش ھوتی ھے.
بادشاہ نے گدهے کو دیکھ کر کہا...
اے مٹی کے برتن بنانے والے الو....
تم نہ سہی ... مشوم میاں ہی سہی... آج سے مشوم میاں ہی ہمارا وزیر موسمیات ہے...
یوں بادشاہ نے گدهے کو یعنی مشوم میاں کو اپنا وزیر موسمیات رکھ لیا...
تاریخ سے پتہ چلتا ھے ھے کہ گدهوں کو وزیر بنانے کی ابتدء مشوم میاں کے دور سے ہوئی....
جغرافیائی تحقیق سے مزید شواھد ملتے ھیں کہ مشوم میاں کی قوم اور نسل اکثریت میں بر صغیر پاک و ھند کے سیاست دانوں میں موجود ہے...
یہ اعلی صفات کی حامل مخلوق بیک وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں اطراف ھوتے ھیں.
مگر حکومت میں رھنے والے یہ وزراء اب صرف موسمیات ھی نہی بلکہ مملکت کے تمام اھم اداروں اور وزارتوں میں فائز ھوتے رھتے ھیں
منقول
سردار رب نوا

Comments

Popular posts from this blog

Bhara kahu 11 Marla (old Marla 272) house single story only 75 Lakh

Bhara kahu 11 Marla (old Marla 272) house single story only 75 Lakh Details: the house is loacted in shah poor ,bharakhu,islamabad The house is single story   there is old marlas like 272 Unnegotiable   25 feet street 3 Bedrooms, 2 Washrooms, Drawing Room TV Lounge, Broad Grage, Mumty, You Can Also check on https://www.olx.com.pk/item/bhara-kahu-11-marla-old-marla-272-house-single-story-only-75-lakh-IDWFki6.html

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام انو جانی ! تمہارا خط ملا، پاکستان کے حالات پڑھ کر کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ یہاں بھی اسی قسم کے حالات چل رہے ہیں۔شاعروں اور ادیبوں نے مر مر کر یہاں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔مجھے یہاں بھائیوں کے ساتھ رہنے کا کہا گیا تھا، میں نے کہا کہ میں زمین پر بھی بھائیوں کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا، مجھے ایک الگ کوارٹر عنایت فرمائیں۔مصطفیٰ زیدی نے یہ کام کر دیا اور مجھے کواٹر مل گیا، مگر اس کا ڈیزائن نثری نظم کی طرح کا ہے جو سمجھ میں تو آجاتی ہے لیکن یاد نہیں رہتی، روزانہ بھول جاتا ہوں کہ میرا بیڈ روم کہاں ہے۔ لیکن اس کوارٹر میں رہنے کا ایک فائدہ ہے، میر تقی میر کا گھر سامنے ہے۔ ان کے 250 اشعار جن میں وزن کا فقدان تھا، نکال چکا ہوں مگر میر سے کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ کُوچہ شعر و سخن میں سب سے بڑا گھر غالب کا ہے۔میں نے میر سے کہا آپ غالب سے بڑے شاعر ہیں آپکا گھر ایوانِ غالب سے بڑا ہونا چاہئے، میر نے کہا ، دراصل وہ گھر غالب کے سسرال کا ہے، غالب نے اس پر قبضہ جما لیا ہے۔میر کے گھر کوئی نہیں آتا، سال بھر کے عرصے میں بس ایک بار ناصر کاظمی آئے وہ بھی میر کے کب...

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کے انسانوں نے دنیا میں تباہی و بربادی اور فتنہ و فساد کے جو طوفان بپا کر دیئے ہیں ، اس نے شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور وہ اب اس کے بارے میں کیا خیالات رکھتا ہے، شاعر کے تخیل کی آنکھ سے دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یارب اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے بھی سر نہ جھکایا یارب لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ میں توبہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اس کی قلب و جاں پاک تھے، شفاف تھی طینت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں پکتا رہتا ہے ہمیشہ ہی لاوا اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک اک سانس ہے اب صورتِ شعلہ اس میں آگ موجود تھی کیا مجھ سے بھی زیادہ اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا آتشکدہءِ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں سوچتا ہوں ...