Skip to main content

----------علماءدین کی حکمتیں--------

----------علماءدین کی حکمتیں--------
خلیفہ ہارون الرشید اور ان کی اہلیہ زبیدہ کے درمیان کیسی بات پر اختلاف پیدا ہو گیا،
.
اختلاف نے جب طول پکڑا تو ہارون نے غصے میں قسم کھا لی کہ آنے والی رات تم میری سلطنت سے باہر گزارو ورنہ تمھیں طلاق 
....
ہارون الرشید کی حدود سلطنت مشرق میں چین سے لے کر مغرب میں فرانس کی نواح تک پھیلی ہوئی تھی ، پھر ایسی وسیع و عریض سلطنت کو ایک ہی رات میں ہارون الرشید کی اہلیہ کیونکر طے کر سکتی تھی، جبکہ اس وقت نقل و حمل کے وسائل و ذرائع بھی آج کی طرح تیز رفتار نہ تھے .
اب بات زبان سے نکل چکی تھی، اہلیہ بھی کوئی معمولی خاتون نہ تھی، زبیدہ تھی جو اسے جان سے زیادہ عزیز تھی ....
وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور یہ دونوں نہایت پریشان، ادھر ہارون اپنی سبقت لسانی پر شرمندہ و پشیمان بھی تھا. چنانچہ اس معمہ کو حل کرنے کے لیے بڑے، بڑے علماء ہارون الرشید کی خدمت میں بلائے گئے...
ان میں قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ بھی تھے، جب علماء کے سامنے اس مسئلے کو رکھا گیا تو سارے غور و خوض میں لگ گئے لیکن مسئلہ کا کوئی معقول حل نظر نہیں آ رہا تھا اس لیے ہر طرف خاموشی طاری ہو گئی، ہاں ایک بات پر سب ہی کو اتفاق تھا کہ اس طرح شرع میں طلاق ہو جاتی ہے، اس لیے ہارون الرشید کی دی ہوئی طلاق واقع ہو گئی ...
اب علماء کی نظریں قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کی طرف اٹھیں کہ :
"حضرت اس کا آپ کے پاس کوئی حل ہے ... اس کا آپ کے پاس کیا جواب ہے ...؟؟؟"
قاضی ابو یوسف مسکرائے، خلیفہ کی طرف دیکھا اور گویا ہوئے :
"آپ کی قسم ایک صورت میں واقع ہونے سے بچ سکتی ہے ...!
ہارون الرشید :
"وہ کون سی صورت ہے ...؟"
امام ابو یوسف :
"اپنی بیوی سے کہیں کہ وہ آج رات کسی بھی مسجد میں گزار لیں، اس لیے کے مسجد آپ کی ملکیت میں نہیں ہے، وہ آپ کی سلطنت سے باہر ہے .
کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے کہ :
ترجمہ : " اور یہ کہ مساجد صرف اللہ کے لیے ہی خاص ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو " (الجن : 18) ...
امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فتوی سن کر تمام علماء عش، عش کر اٹھے اور ان کی ذہانت و فطانت کے قائل ہو گئے ...
چنانچہ قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے فتوی کے مطابق ہارون الرشید کی اہلیہ زبیدہ نے رات مسجد میں گزاری اور اس طرح ہارون الرشید کی اہلیہ کو طلاق ہوتے، ہوتے رہ گئی .
منقول
سردارب نواز

Comments

Popular posts from this blog

Bhara kahu 11 Marla (old Marla 272) house single story only 75 Lakh

Bhara kahu 11 Marla (old Marla 272) house single story only 75 Lakh Details: the house is loacted in shah poor ,bharakhu,islamabad The house is single story   there is old marlas like 272 Unnegotiable   25 feet street 3 Bedrooms, 2 Washrooms, Drawing Room TV Lounge, Broad Grage, Mumty, You Can Also check on https://www.olx.com.pk/item/bhara-kahu-11-marla-old-marla-272-house-single-story-only-75-lakh-IDWFki6.html

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام انو جانی ! تمہارا خط ملا، پاکستان کے حالات پڑھ کر کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ یہاں بھی اسی قسم کے حالات چل رہے ہیں۔شاعروں اور ادیبوں نے مر مر کر یہاں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔مجھے یہاں بھائیوں کے ساتھ رہنے کا کہا گیا تھا، میں نے کہا کہ میں زمین پر بھی بھائیوں کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا، مجھے ایک الگ کوارٹر عنایت فرمائیں۔مصطفیٰ زیدی نے یہ کام کر دیا اور مجھے کواٹر مل گیا، مگر اس کا ڈیزائن نثری نظم کی طرح کا ہے جو سمجھ میں تو آجاتی ہے لیکن یاد نہیں رہتی، روزانہ بھول جاتا ہوں کہ میرا بیڈ روم کہاں ہے۔ لیکن اس کوارٹر میں رہنے کا ایک فائدہ ہے، میر تقی میر کا گھر سامنے ہے۔ ان کے 250 اشعار جن میں وزن کا فقدان تھا، نکال چکا ہوں مگر میر سے کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ کُوچہ شعر و سخن میں سب سے بڑا گھر غالب کا ہے۔میں نے میر سے کہا آپ غالب سے بڑے شاعر ہیں آپکا گھر ایوانِ غالب سے بڑا ہونا چاہئے، میر نے کہا ، دراصل وہ گھر غالب کے سسرال کا ہے، غالب نے اس پر قبضہ جما لیا ہے۔میر کے گھر کوئی نہیں آتا، سال بھر کے عرصے میں بس ایک بار ناصر کاظمی آئے وہ بھی میر کے کب...

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کے انسانوں نے دنیا میں تباہی و بربادی اور فتنہ و فساد کے جو طوفان بپا کر دیئے ہیں ، اس نے شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور وہ اب اس کے بارے میں کیا خیالات رکھتا ہے، شاعر کے تخیل کی آنکھ سے دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یارب اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے بھی سر نہ جھکایا یارب لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ میں توبہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اس کی قلب و جاں پاک تھے، شفاف تھی طینت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں پکتا رہتا ہے ہمیشہ ہی لاوا اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک اک سانس ہے اب صورتِ شعلہ اس میں آگ موجود تھی کیا مجھ سے بھی زیادہ اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا آتشکدہءِ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں سوچتا ہوں ...