قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے حکومت کے حلقہ بندیوں سے متعلق اصلاحتی بل ۲۰۱۷ نے مجھے ختم نبوت کے ترمیمی بل کی یاد
تازہ کرادی جس کی منظوری ھونے کے بعد بھی وھاں لبرلز تو کیا مذھبی رھنماؤں کو بھی سمجھ نہ آئی کہ ھمارے ساتھ کیا ھو گیا...
اطلاعات کے مطابق پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی کی 99جنرل نشستیں برقرار رہینگی تاہم نئی حلقہ بندیوں کے دوران صوبے کے 5اضلاع ایبٹ آباد، چارسدہ، چترال، ہری پور اور صوابی سے ایک ایک نشست کم کر دی جائے گی ۔۔۔۔۔ ایبٹ آباد سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کم کرنے کے بعد 5کی بجائے4، چترال سے ایک نشست کم کرنے کے بعد دو کی بجائے ایک، چارسدہ سے ایک نشست کم کرنے کے بعد6کی بجائے5، ہری پور سے ایک نشست کم کرنے کے بعد 4کی بجائے 3اور صوابی سے ایک نشست کم کرنے کے بعد 6کی بجائے 5رہ جائیگی
یاد رھے کہ ان پانچ اضلاع میں سے تین اضلاع ایبٹ آباد , ھری پور اور چترال میں پشتون آبادی اقلیت میں ھے..
پشاور سے صوبائی اسمبلی کی 3نشستوں کا اضافہ کیا جائے گا اور یہ تعداد 11کی بجائے14تک پہنچ جائے گی جبکہ سوات میں ایک صوبائی اسمبلی کی نشست کا اضافہ کرکے تعداد7سے بڑھ کر8اور دیر لوئر میں ایک نشست کا اضافہ کرنے سے تعداد4سے بڑھ کر5تک پہنچ جائے گی.
سیاسی جماعتوں کے ساتھ ھزارہ کے عوام کی وابستگی صد قابل ء احترام مگر ادب کے ساتھ یی ضرور عرض کرونگا کہ اس حلقہ بندیوں کے اصلاحتی بل کی آڑ میں ھزارہ ڈویزن کے ساتھ تعصب,زیادتی اور ظلم کی حد کر دی گئی جس میں تمام ھی سیاسی جماعتوں نے اپنا کردار ادا کیا اور پورے ھزارہ ڈویزن سے اب تک کسی بھی ممبر صوبائی اسمبلی , قومی اسمبلی , یا کسی سیاسی مذھبی جماعت حتی کہ ھزارہ کو صوبہ بنانے کی کوششوں میں مصروف تحریک کو بھی علم یا احساس نہ ھوا کہ کس خوبصورتی سے ھزارہ کی پارلیمانی جغرافیائی استعداد اور اسمبلی نشستوں کو محدود کر کے صوبہ میں اس خطے کو مختصر کر دیا گیا.
حالانکہ پاکستان میں قومی اسمبلی کا سب سے بڑا حلقہ ھری پور ھزارہ ھے جسکو دو حصؤں میں تقسیم کرنا چاھئے تھا مگروھاں صوبائی اسمبلی کی نشست کم کر دی گئی...
ایبٹ آباد میں صوبائی اسمبلی کا سب سے بڑا حلقہ PK 48 تھا جس کو کم کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ھے.
مگر افسوس کہ اس خطہ ھزارہ میں احساسء محرومی کو کم کرنے کے بجائے اس نئی حلقہ بندیوں کی آڑ میں ھزارہ وال قوم کو دو قومی نظریہ کی جانب دھکیل دیا گیا...
بطور ھزارہ وال مجھے خود پر اور اپنی قوم پر یہ انکشاف ایک برتری اور اعزاز کی صورت منکشف ھوا جب ایک بین الاقوامی ھوائی اڈے پر اگلی فلائٹ کے انتظار میں ایک عمر رسیدہ ریٹائرڈ برطانوی فوجی افسر نے مجھے بتایا کہ آپکے ملک میں ھزارہ ایک ایسا علاقہ ھے جو پورے پاکستان میں سب سے زیادہ محب الوطن افراد کا علاقہ سمجھا جاتا ھے.
مگر افسوس کہ ھزارہ کو کوئی بھی سیاسی جماعت دیانتداری کے ساتھ علیحدہ شناخت کے طور پر قبول کرنے کو راضی نہی.
میں امید کرتا ھونکہ اس معاملے پر ھزارہ کے تمام تحصیلوں اور ضلعؤں کے لا علم بلدیاتی نمائندے خواب ء خرگوش کی نیند سے اٹھیں گے اور ھزارہ کی جغرافیائی پارلیمانی استعداد کو گھٹانے کی سازش کا قلع قمع کریں گے اور سو فیصدی اتفاقءرائے کے ساتھ مذمتی اور مطالباتی قراردادیں پاس کریں گے کہ یہ کوئی ذاتی مسئلہ نہی بلکہ ھزارہ کے دوام اور مٹی کے قرض اتارنے کا وقت ھے...
قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں اس غیر منصفانہ تقسیم پر ھزارہ وال ممبران اپنا موقف بیان کریں گے اور مردم شماری کو بنیاد سمجھنے والے دانشوروں کو علاقائی سطح کے دیگر ضروری عوامل سے آگاھی دیں گے کہ ملک میں کسی بھی قانون کی ھمیشہ یکساں عملداری بسا اوقات ممکنات میں نہی ھوتی اس کے لئے انفرادی طور پر لچک پیدا کی جاتی ھیں.
الیکشن کمیشن کے معزز چیف جناب جسٹس ریٹائرڈ سرداررضا صآحب جن کا اپنا تعلق بھی ایبٹ آباد سے ھے ان سے اپیل ھے کہ ھزارہ کے تحفظ کے لئے یہاں کی عوام کے جذبات کو ملحوظ ء خاطر ضرور رکھیں اور فقط مردم شماری کو کافی نہ سمجھیں مردم شناسی کی اھمیت اور احترام کو بھی اھمیت دیں ورنہ میرے ھزارہ وال وکلاء روایتی غیرت کے تابع ھو کر عدالتوں میں پٹیشن دائر کریں گے اور ھم ھزارہ وال اپنے تشخص کے لئے ان نئی بنیادوں پر کی گئی حلقہ بندیوں پر آئندہ انتخابات کو مشکوک یا مکروہ تصور کریں گے.
اور ھزارہ وال سیاسی رھنماء اس معاملے پر ایک دوسرے کو مورودءالزام ٹھرانے یا نیچا دکھانے کے بجائے من حیث القوم اپنی یکجہتی ثابت کریں...
یاد رھے کہ ان پانچ اضلاع میں سے تین اضلاع ایبٹ آباد , ھری پور اور چترال میں پشتون آبادی اقلیت میں ھے..
پشاور سے صوبائی اسمبلی کی 3نشستوں کا اضافہ کیا جائے گا اور یہ تعداد 11کی بجائے14تک پہنچ جائے گی جبکہ سوات میں ایک صوبائی اسمبلی کی نشست کا اضافہ کرکے تعداد7سے بڑھ کر8اور دیر لوئر میں ایک نشست کا اضافہ کرنے سے تعداد4سے بڑھ کر5تک پہنچ جائے گی.
سیاسی جماعتوں کے ساتھ ھزارہ کے عوام کی وابستگی صد قابل ء احترام مگر ادب کے ساتھ یی ضرور عرض کرونگا کہ اس حلقہ بندیوں کے اصلاحتی بل کی آڑ میں ھزارہ ڈویزن کے ساتھ تعصب,زیادتی اور ظلم کی حد کر دی گئی جس میں تمام ھی سیاسی جماعتوں نے اپنا کردار ادا کیا اور پورے ھزارہ ڈویزن سے اب تک کسی بھی ممبر صوبائی اسمبلی , قومی اسمبلی , یا کسی سیاسی مذھبی جماعت حتی کہ ھزارہ کو صوبہ بنانے کی کوششوں میں مصروف تحریک کو بھی علم یا احساس نہ ھوا کہ کس خوبصورتی سے ھزارہ کی پارلیمانی جغرافیائی استعداد اور اسمبلی نشستوں کو محدود کر کے صوبہ میں اس خطے کو مختصر کر دیا گیا.
حالانکہ پاکستان میں قومی اسمبلی کا سب سے بڑا حلقہ ھری پور ھزارہ ھے جسکو دو حصؤں میں تقسیم کرنا چاھئے تھا مگروھاں صوبائی اسمبلی کی نشست کم کر دی گئی...
ایبٹ آباد میں صوبائی اسمبلی کا سب سے بڑا حلقہ PK 48 تھا جس کو کم کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ھے.
مگر افسوس کہ اس خطہ ھزارہ میں احساسء محرومی کو کم کرنے کے بجائے اس نئی حلقہ بندیوں کی آڑ میں ھزارہ وال قوم کو دو قومی نظریہ کی جانب دھکیل دیا گیا...
بطور ھزارہ وال مجھے خود پر اور اپنی قوم پر یہ انکشاف ایک برتری اور اعزاز کی صورت منکشف ھوا جب ایک بین الاقوامی ھوائی اڈے پر اگلی فلائٹ کے انتظار میں ایک عمر رسیدہ ریٹائرڈ برطانوی فوجی افسر نے مجھے بتایا کہ آپکے ملک میں ھزارہ ایک ایسا علاقہ ھے جو پورے پاکستان میں سب سے زیادہ محب الوطن افراد کا علاقہ سمجھا جاتا ھے.
مگر افسوس کہ ھزارہ کو کوئی بھی سیاسی جماعت دیانتداری کے ساتھ علیحدہ شناخت کے طور پر قبول کرنے کو راضی نہی.
میں امید کرتا ھونکہ اس معاملے پر ھزارہ کے تمام تحصیلوں اور ضلعؤں کے لا علم بلدیاتی نمائندے خواب ء خرگوش کی نیند سے اٹھیں گے اور ھزارہ کی جغرافیائی پارلیمانی استعداد کو گھٹانے کی سازش کا قلع قمع کریں گے اور سو فیصدی اتفاقءرائے کے ساتھ مذمتی اور مطالباتی قراردادیں پاس کریں گے کہ یہ کوئی ذاتی مسئلہ نہی بلکہ ھزارہ کے دوام اور مٹی کے قرض اتارنے کا وقت ھے...
قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں اس غیر منصفانہ تقسیم پر ھزارہ وال ممبران اپنا موقف بیان کریں گے اور مردم شماری کو بنیاد سمجھنے والے دانشوروں کو علاقائی سطح کے دیگر ضروری عوامل سے آگاھی دیں گے کہ ملک میں کسی بھی قانون کی ھمیشہ یکساں عملداری بسا اوقات ممکنات میں نہی ھوتی اس کے لئے انفرادی طور پر لچک پیدا کی جاتی ھیں.
الیکشن کمیشن کے معزز چیف جناب جسٹس ریٹائرڈ سرداررضا صآحب جن کا اپنا تعلق بھی ایبٹ آباد سے ھے ان سے اپیل ھے کہ ھزارہ کے تحفظ کے لئے یہاں کی عوام کے جذبات کو ملحوظ ء خاطر ضرور رکھیں اور فقط مردم شماری کو کافی نہ سمجھیں مردم شناسی کی اھمیت اور احترام کو بھی اھمیت دیں ورنہ میرے ھزارہ وال وکلاء روایتی غیرت کے تابع ھو کر عدالتوں میں پٹیشن دائر کریں گے اور ھم ھزارہ وال اپنے تشخص کے لئے ان نئی بنیادوں پر کی گئی حلقہ بندیوں پر آئندہ انتخابات کو مشکوک یا مکروہ تصور کریں گے.
اور ھزارہ وال سیاسی رھنماء اس معاملے پر ایک دوسرے کو مورودءالزام ٹھرانے یا نیچا دکھانے کے بجائے من حیث القوم اپنی یکجہتی ثابت کریں...
نہ سمجھو گئے تو مٹ جاؤ گے.............
تمھاری داستاں تک نہ ھوگی داستانوں میں...
تحریر
سردار رب نواز
تمھاری داستاں تک نہ ھوگی داستانوں میں...
تحریر
سردار رب نواز

Comments
Post a Comment