Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2017

الوداع دسمبر 2017

الوداع دسمبر 2017 **** الوداع دسمبر 2017 **** میں سال کا آخری سورج ہوں میں سب کے سامنے ڈوب چلا کوئی کہتا ہے میں چل نہ سکا کوئی کہتا ہے کیا خوب چلا میں سب کے سامنے ڈوب چلا اس رخصتِ عالم میں مجھ کو اک لمحہ رخصت مل نہ سکی جس شب کو ڈھونڈنے نکلا تھا اس شب کی چاہت مل نہ سکی یہ سال کہاں، اک سال کا تھا یہ سال تو اک جنجال کا تھا یہ زیست جو اک اک پَل کی ہے یہ اک اک پَل سے بنتی ہے سب اک اک پَل میں جیتے ہیں اور اک اک پَل میں مرتے ہیں یہ پَل ہے میرے مرنے کا میں سب کے سامنے ڈوب چلا . اے شام مجھے تو رخصت کر تو اپنی حد میں رہ لیکن دروازے تک تو چھوڑ مجھے وہ صبح جو کل کو آئے گی اک نئی حقیقت لائے گی تو اس کے لئے، وہ تیرے لئے اے شام! تو اتنا جانتی ہے اک صبحِ اُمید ، آثار میں ہے اک در تیری دیوار میں ہے اک صبحِ قیامت آنے تک . بس میرے لئے بس میرے لئے یہ وقت ہی وقتِ قیامت ہے اب آگے لمبی رخصت ہے اے شام جو شمعیں جلاو ¿ تم اک وعدہ کرو ان شمعوں سے جو سورج کل کو آئے یہاں وہ آپ نہ پَل پَل جیتا ہو وہ آپ نہ پَل پَل مرتا ہو وہ پورے سال کا سورج ہو اے شام مجھے تو رخصت کر . (لطیف ساحل)

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام

جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام انو جانی ! تمہارا خط ملا، پاکستان کے حالات پڑھ کر کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ یہاں بھی اسی قسم کے حالات چل رہے ہیں۔شاعروں اور ادیبوں نے مر مر کر یہاں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔مجھے یہاں بھائیوں کے ساتھ رہنے کا کہا گیا تھا، میں نے کہا کہ میں زمین پر بھی بھائیوں کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا، مجھے ایک الگ کوارٹر عنایت فرمائیں۔مصطفیٰ زیدی نے یہ کام کر دیا اور مجھے کواٹر مل گیا، مگر اس کا ڈیزائن نثری نظم کی طرح کا ہے جو سمجھ میں تو آجاتی ہے لیکن یاد نہیں رہتی، روزانہ بھول جاتا ہوں کہ میرا بیڈ روم کہاں ہے۔ لیکن اس کوارٹر میں رہنے کا ایک فائدہ ہے، میر تقی میر کا گھر سامنے ہے۔ ان کے 250 اشعار جن میں وزن کا فقدان تھا، نکال چکا ہوں مگر میر سے کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ کُوچہ شعر و سخن میں سب سے بڑا گھر غالب کا ہے۔میں نے میر سے کہا آپ غالب سے بڑے شاعر ہیں آپکا گھر ایوانِ غالب سے بڑا ہونا چاہئے، میر نے کہا ، دراصل وہ گھر غالب کے سسرال کا ہے، غالب نے اس پر قبضہ جما لیا ہے۔میر کے گھر کوئی نہیں آتا، سال بھر کے عرصے میں بس ایک بار ناصر کاظمی آئے وہ بھی میر کے کب...

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کے انسانوں نے دنیا میں تباہی و بربادی اور فتنہ و فساد کے جو طوفان بپا کر دیئے ہیں ، اس نے شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور وہ اب اس کے بارے میں کیا خیالات رکھتا ہے، شاعر کے تخیل کی آنکھ سے دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یارب اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے بھی سر نہ جھکایا یارب لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یارب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ میں توبہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اس کی قلب و جاں پاک تھے، شفاف تھی طینت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشہ کر لوں سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں پکتا رہتا ہے ہمیشہ ہی لاوا اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک اک سانس ہے اب صورتِ شعلہ اس میں آگ موجود تھی کیا مجھ سے بھی زیادہ اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا آتشکدہءِ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں سوچتا ہوں ...

ہالی وڈ موویز

 ہالی وڈ موویز میں ایسی ہالی وڈ موویز شوق سے دیکھتا ہوں جس میں قدیم تہذیبوں کا نقشہ کھینچا گیا ہو۔۔۔۔۔ہالی وڈ نے سلطنت روما کے کردار "گلیڈی ایٹر" پر سینکڑوں فلمیں بنائی ہیں جس میں دکھایا گیا ہے کہ انسانوں کو پنجروں میں پالا جاتا تھا اور ہر سال ایک مقابلہ ہوتا تھا جس میں انسانوں کو جنگلی درندوں کے ساتھ لڑایا جاتا تھا۔۔۔۔۔یہ کھیل اتنا مشہور ہوا کہ اسے سلطنت روما کے قومی کھیل کی حیثیت حاصل ہوگئی۔۔۔۔اس متعلق ناول نگار Gaius Suetonius کے ناول The twelve ceasre کو تاریخی حیثیت حاصل ہے جس میں نیرو کے کردار کو بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ ایک جملہ آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔۔۔۔یہ 64 قبل مسیح کا واقعہ ہے جب روم میں شدید آگ لگی جس میں دارالسلطنت کا آدھے سے زیادہ علاقہ جل کر راکھ ہو گیا اور ہزاروں انسان زندہ جل گئے۔۔۔۔۔۔۔جب روم جل رہا تھا تو نیرو 53میل دور واقع اپنے محل کی ایک پہاڑی پر بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ چونکہ نیرو عیاش اور اذیت پسند تھا لہٰذا یہ آگ اس نے خود لگوائی تاکہ جلتے مرتے لوگوں کی...

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ زندگی کا خلاصہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ زندگی کا خلاصہ سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت پیر کے روز صبح صادق کے وقت ربیع الاول ،عام الفیل ۔بمطابق اپریل ۵۷۱ء میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے چند مہینے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ِمحترم ”عبد اللہ “کی وفات ہو گئی، آپ کے دادا جان ”عبد المطلب“ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی ”محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب“ ہے ،اور آپ کی والدہ محترمہ ”آمنہ کی طرف سے آپ کا نام ”احمد“ تجویز ہوا۔ ابولہب کی آزاد کر دہ باندی ”ثویبہ رضی اللہ عنہا“کے چند دن دودھ پلانے کے بعدشرفاء ِقریش کی عادت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا “کی رضاعت میں دے کر مضافاتِ مکہ میں بھیج دیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ دن کے تھے۔۔۔۔۔۔ ولادت کے چوتھے سال شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا، موٴرخین لکھتے ہیں کہ شق صدر کا واقعہ چار بار پیش آیا، ایک: زمانہ طفولیت میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس، دوسری بار دس سال کی عمر میں پیش آیا۔ (فتح الباری: ۱۳/۴۸۱)تیسری بار: واقعہٴ بعثت...

امیرشہر ہوش میں آ

امیرشہر ہوش میں آ کچھ دن پہلے میرے ایک استادمحترم نے فیس بک پر یہ تصویر پوسٹ کی ہوئی تھی اور اوپر لکھا کہ”عنوان دیجئے ” بلا شبہ یہ پوسٹ بہت ہی با مقصد تھی اور یقیناًاس تصویر کو انتہائی خوبصورت عنوان ملے ہونگے.کیونکہ تصویر میں مزدور چاچا جی کے چہرے سے پریشانی،غربت اور بے بسی کے آثار صاف نظر آ رہے ہیں.تو میں نےبھی عنوان دینے کاجذباتی فیصلہ لے ہی لیا اور اپنا عنوان دے دیا.اگر ہماری نوجوان نسل بھی انہیں سر گرمیوں کا حصہ بن جاۓ تو شاید ظالم سرمایا داران کو رحم آ جاۓ یا ہو سکتا ہے یہ سرمایا دارانہ نظام ہی ختم ہو جاۓ. ہمارے ساتھ کیا جانے والا کیڑے مکوڑوں والا برتاؤ ختم ہو جاۓگا .شاید ہمیں انسان سمجھا جاۓ اور آزاد اور عزت کی زندگی ملے. خیر میرا عنوان یہ تھا “امیر شہر ہوش میں آ” کیوں کہ چند ارب پتی کئی برس سے ہمیں غلام ہی سمجھتے آ رہے ہیں حالانکہ کوئی بھی ریاست ارب پتی کے بغیرچل سکتی ہے لیکن مزدور کے بغیر نہیں .مزدور طبقہ نا ہوتا تو شاید یہ لوگ بنگلوں میں نا بیٹھے ہوتے مزدور نا ہوتے تو ان کی فیکٹریاں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہوتی.دن رات جی توڑ محنت کرنے والوں کو کوئی مراعات نہیں چاہیئں ...

چین کے انقلابی لیڈر ماؤزے تنگ کے چار اصول

چین کے انقلابی لیڈر ماؤزے تنگ کے چار اصول چین کا کریکٹر چار اصولوں پر استوار ہے‘ برداشت‘ تسلسل‘ خود انحصاری اور عاجزی‘ یہ چاروں خوبیاں چین کے بانی ماؤزے تنگ میں بھی موجود تھیں‘ آپ ماؤزے تنگ کی برداشت ملاحظہ کیجئے‘دنیا کا بہادر سے بہادر ترین انسان بھی اکلوتی اولادکی موت پر آنسو‘ خارش کے وقت ہاتھ اور لطیفے کے وقت قہقہہ کنٹرول نہیں کر سکتالیکن چین کے بانی ماؤزے تنگ کو ان تینوں پر کنٹرول تھا‘ کوریا کے ساتھ جنگ ہوئی‘ ماؤ نے اپنا اکلوتا بیٹا جنگ میں بھجوا دیا‘ بیٹے کی نعش واپس آئی‘ یہ کہہ کر رونے سے انکار کر دیا ”میں اس غم میں اکیلا نہیں ہوں‘ میرے جیسے ہزاروں والدین کے بچے اس جنگ میں مارے گئے ‘ میں پہلے ان کے آنسو پونچھوں گا۔" ماؤ نے اسّی سال کی عمرمیں سردیوں کی یخ رات میں اعلان کر دیا میں دریائے شنگھائی تیر کر عبور کروں گا‘ سارا شہر جنوری کی اس رات دریا کے کنارے اکٹھا ہو گیا‘ بابا جی پل پر پہنچے‘ کپڑے اتارے اور منجمد دریا میں چھلانگ لگا دی‘ تیر کر دوسرے کنارے پہنچے اور وہاں سے تیرتے ہوئے واپس لوٹے۔ لوگ حیران رہ گئے‘ ماؤ کو انگریزی زبان پر عبور تھا‘ مغرب میں چھپنے والی ہر اچھی کتا...

ھیر رانجھا

ھیر رانجھا ھیر رانجھا کا مزار.. پنجاب میں ضلع جھنگ میں ایک پرانے خراب حال قبرستان میں تقریباً بیس فٹ بلند اور سولہ فٹ چوڑائی اور لمبائی والی ایک چوکور عمارت ھے. چند سیڑھیاں چڑھ کر اندر پہنچیں تو مزار کے اندر ایک قبر، اور کچھ چراغ دکھائی دیں گے۔قبر کے محفوظ حصے میں اور جالیوں کے ساتھ زمانے کے نت نئے عاشقوں کی نشانیاں نظر آنے لگ جاتی ھیں جو ایصال ء ثواب کے بجائے اپنے اپنے عشق کا رونا ھی روتے ھیں ..... اور خود کواہلء مزار کا خلیفہ سمجھنے لگتے ھیں مزار کے بارے میں جو بات انتہائی عجیب دکھائی دیتی ہے وہ ہے اس کی چھت۔ دراصل اس مزار کی چھت ہے بھی اور نہیں بھی۔ قبر کے عین اوپر تقریباً بارہ فٹ قطر کا ایک سوراخ نظر آتا ہے جس کے بارے میں سن رکھا تھا کہ بارش کے قطرے اس سوراخ کے ذریعے عمارت کے اندر نہیں آ پاتے، لیکن وہاں موجود ایک بزرگ نے فوری طور پر اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے بتایا کہ سوراخ سے بارش یقیناً اندر آتی ہے اور جب زیادہ آتی ہے تو اس سے بچنے کے لیے ملحقہ مسجد میں پناہ بھی لینا پڑتی ہے۔ اس کی ایک وجہ جو تاریخ سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ جس زمانے میں یہ مزار بنا تھا تب ایسی عما...

ڈاکٹر روتھ فاؤ

ڈاکٹر روتھ فاؤ  یہ خاتون جرمنی کے شہر لائزگ کی رھنے والی تھی۔ پیشے کے لحاظ سے یہ ڈاکٹر تھیں۔ سن 1958ء کی بات ھے اس خاتون نے 30 سال کی عمر میں پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی‘ کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے‘ کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘ یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔ پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے‘ یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا‘ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں‘ یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے...

سندھ ........باب الاسلام

سندھ ........باب الاسلام بر صغئیر کا قدیم ترین علاقہ اور تھذیب سندھ پاکستان کا ایک اھم اور بڑا صوبہ ہے.... سندھ کو باب الاسلام بھی کہا جاتا ھے....یعنی بعض روایات میں ھے کہ دین اسلام بر صغیر کے اندر سب سے پہلے سندھ میں آیا تھا..... ابتدائ ادوار میں سندھ موجودہ ھندوستان کے بھی اک بڑے رقبے پر محیط تھا. ممبئ , مھاراشٹر اور راجھستان سندھ میں شمار ھوتے تھے...اور بلوچستان کا علاقہ بھی سندھ کا حصہ تھا جبکہ ملتان , تک کی تمام سرائیکی بیلٹ بھی اصل میں سندھ ھی ھوا کرتا تھا..... موجودہ سندھ اپنی قدیم تاریخی شہرت کے ساتھ ساتھ اب جدید معاشی , اور صنعتی ترقی کا حامل بھی ھے. سندھ 54000 سے زائد مربع میل احاطے پر پھیلا ھوا ھے... سندھ کے انتیس بڑے اضلاع ھیں. 1100 سے زئد یونین کونسلز اور اسمبلی کی 168 نشستیں ھیں....... سندھ دھرتی اپنے اندر جو پیار , کشش , افادیت اور چاھت رکھتی ھے وہ یہاں پیدا ھونے والے کو ھی نہی بلکہ یہاں دوسری جگہہ سے آکر آباد ھونے والوں کو بھی اپنے طلسماتی حصار میں یؤں مقید کرتی ھے کہ وہ سندھ کا ھی ھو کر رہ جاتا ھے...اور دنیا کے جس ملک میں بھی جائے سندھ دھرتی کی اپنا...

😂😝 #جلسہ 😜😂

😂 😝   # جلسہ   😜 😂 ایک دُور دراز کے گاؤں میں ایک سیاستدان کی تقریر تھی. 300 کلو میٹر ٹُوٹی پُھوٹی سڑکوں پر سفر کرنے کے بعد جب وہ تقریر کی جگہ پر پہنچے تو دیکھا کہ صرف ایک کسان انکی تقریر سُننے کے لئے بیٹھا ہُوا تھا۔ اس اکیلے شخص کو دیکھ کر سیاستدان کو سخت مایوسی ہُوئی، اور نہایت افسردہ انداز میں کہنے لگے، بھائی، آپ تو صرف اکیلے آدمی آئے ہو، سمجھ میں نہیں آتا کہ اب میں تقریر کروں یا نہیں-"،؟ کسان بولا، صاحب میرے گھر پر بیس(۲۰) گدھے ہیں۔ اگر میں ان کو چارہ ڈالنے جاؤں، اور دیکھوں کہ وہاں صرف ایک گدھا ہے، اور باقی دوڑ گئے ہیں، تو کیا میں اس ایک گدھے کو بھی چارہ نہ ڈالوں،؟ اور اسے بھی بُھوکا مار دوں؟؟ کسان کا بہترین جواب سُن کر سیاستدان بہت خُوش ہُوا، اور ڈائس پر جا کر اس اکیلے کسان کے لئے دو(۲) گھنٹے تک پُرجوش انداز میں تقریر کرتا رہا۔ تقریر ختم کرنے کے بعد، وہ ڈائس سے اُتر کر سیدھا کسان کے پاس آیا اور بولا، تُمہاری گدھے والی مثال مجھے بہت پسند آئی،، اب تُم بتاؤ، تُمہیں میری تقریر کیسی لگی؟ کسان بولا،، صاحب، اُنیس(۱۹) گدھوں کی غیر موجودگی کا یہ مطلب تو نہیں کہ بِیس(۲۰...

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

Sardar Rab Nawaz July 26  ·  Riyadh, Saudi Arabia  ·  تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات (اقبال) .................................... خدا کے حضور میں اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیات  حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذات میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات محرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سے بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات ہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے تو خالق اعصار و نگارندۂ آنات اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچے کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماوات مشرق کے خداوند سفیدان فرنگی مغرب کے خداوند درخشندہ فلزات یورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہے حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات رعنائی تعمیر م...